ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 168

وَ قَطَّعۡنٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اُمَمًا ۚ مِنۡہُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنۡہُمۡ دُوۡنَ ذٰلِکَ ۫ وَ بَلَوۡنٰہُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۶۸﴾
اور ہم نے انھیں زمین میں مختلف گروہوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، انھی میں سے کچھ نیک تھے اور ان میں سے کچھ اس کے علاوہ تھے اور ہم نے اچھے حالات اور برے حالات کے ساتھ ان کی آزمائش کی، تاکہ وہ باز آجائیں۔
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کر دیں۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

168۔ اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین [170] میں کئی گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں سے کچھ تو نیک لوگ ہیں اور دوسرے ان سے مختلف ہیں۔ اور ہم انہیں اچھے اور برے حالات سے آزماتے رہے کہ شاید وہ (اللہ کی طرف) پلٹ آئیں
[170] اسلاف یہود کا کردار:۔
یعنی یہود کو تفرقہ بازی کے عذاب میں مبتلا کر دیا (جس میں آج کل مسلمان بھی مبتلا ہیں) جس کی وجہ سے قوم کی ساکھ ختم ہو جاتی ہے۔ امت کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے اور دنیا کی نظروں میں وہ حقیر بن جاتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بازی کو عذاب کی ایک مستقل قسم قرار دیا ہے [نيز سورة انعام كي آيت نمبر 65 كا حاشيه ملاحظه فرمائيے]