ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 16

قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ﴿ۙ۱۶﴾
اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرور ہی ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔
(پھر) شیطان نے کہا مجھے تو تُو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا
اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراه کیا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لئے آپ کی سیدھی راه پر بیٹھوں گا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ ابلیس نے کہا: ”تو نے مجھے گمراہی میں [14] مبتلا کیا ہے تو اب میں بھی تیری سیدھی راہ پر (گھات لگا کر) بیٹھوں گا
[14] ابلیس کا اللہ تعالیٰ پر الزام:
ابلیس نے مزید جرم یہ کیا کہ اپنی اس نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ تعالیٰ پر لگا دیا اور کہا کہ تو نے مجھے ایسی مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جو مجھ سے فروتر تھی اس سے میرے نفس کی غیرت اور پندار کو ٹھیس پہنچی اور تو نے مجھے ایسی آزمائش میں ڈال دیا کہ میں تیری نافرمانی پر مجبور ہو گیا اور چونکہ میری گمراہی کا ذریعہ آدمؑ بنا ہے لہذا اب میں جس طرح بھی مجھ سے بن پڑا اسے اور اس کی اولاد کو ہر حیلے بہانے گمراہ کر کے چھوڑوں گا اور تجھے معلوم ہو جائے گا کہ میں آدم اور اس کی اولاد کی اکثریت کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا تھوڑے ہی بندے ایسے رہ جائیں گے جو تیرے فرمانبردار اور شکر گزار ہوں گے۔