ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 159

وَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤی اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَ بِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
اور موسیٰ کی قوم میں سے کچھ لوگ ہیں جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
اور قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اسی کے مطابق انصاف بھی کرتی ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

159۔ اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ [161] ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتے اور اسی کے مطابق انصاف کرتے ہیں
[161] ہر معاشرہ میں کچھ انصاف پسند لوگ بھی موجود ہوتے ہیں:۔
اس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہود کے گروہوں میں ایک گروہ انصاف پسند موجود تھا۔ اگرچہ یہ گروہ قلیل تعداد میں تھا تاہم اس آیت کو صرف دور نبوی سے مختص کرنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ موسیٰؑ کی قوم میں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک ایسا انصاف پسند گروہ موجود رہا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ تاہم ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو گا جو تا قیامت حق پر قائم رہے گا اور اگر ربط مضمون کے لحاظ سے یہ کہا جائے کہ جب بنی اسرائیل گؤ سالہ پرستی جیسے بڑے شرک میں مبتلا تھے تو اس وقت بھی امت میں ایک انصاف پسند گروہ موجود تھا جو دوسروں کو ہدایت پر رہنے کی تلقین کرتا تھا تو یہ بھی مناسب ہے۔