ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 15

قَالَ اِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿۱۵﴾
فرمایا بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔
فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تجھے یہ مہلت [13] دے دی جاتی ہے
[13] ابلیس کے عزائم:
شیطان چونکہ سیدنا آدمؑ کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے راندہ درگاہ الٰہی ہوا تھا اس لیے وہ سیدنا آدمؑ کا دشمن بن گیا اس نے اپنے کسی قصور کا احساس نہ کیا اور ان گناہوں کی سزا کا اصل سبب سیدنا آدمؑ کو قرار دیا اور قیامت تک اللہ سے مہلت بھی مانگی اور آدمؑ اور اس کی اولاد کو بہکانے اور ورغلانے کا اختیار بھی مانگا تو اللہ نے اسے یہ اختیار دے دیا۔ اس عرصے میں سیدنا آدمؑ اور ان کی اولاد کو بہکا کر اور گمراہ کر کے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ آدمی فی الواقع خلافت ارضی کا اہل نہیں ہے اور میں نے جو اسے سجدہ نہیں کیا تو اس معاملہ میں میں ہی راہ راست پر تھا۔