ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیۡۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ رَاَوۡا اَنَّہُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ یَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَ یَغۡفِرۡ لَنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾
اور جب وہ پشیمان ہوئے اور انھوں نے دیکھا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں، تو انھوں نے کہا یقینا اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم ضرور ہی خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
اور جب نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وه لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناه معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہو جائیں گے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

149۔ اور وہ تھے ہی بے انصاف لوگ (145) اور جب وہ شرمسار ہوئے اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے ”اگر ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں [146] معاف نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے“
[145] حضرت موسیٰؑ کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کی گؤ سالہ پرستی:۔
موسیٰؑ تو اللہ تعالیٰ کے مقررہ وعدہ اور وقت کے مطابق کوہ طور پر چلے گئے، اور بنی اسرائیل کی قیادت سیدنا ہارونؑ کے سپرد کر کے یہ تاکید کر دی تھی کہ یہ بگڑی ہوئی قوم ہے۔ ان کی اصلاح کے لیے خصوصی دھیان رکھنا اور یہ بات موسیٰؑ نے اس وجہ سے کہی تھی کہ ایک مرتبہ پہلے وہ سیدنا موسیٰؑ سے کہہ چکے تھے کہ ہمیں بھی ایک معبود بنا دیجئے اور موسیٰؑ نے انہیں سرزنش بھی کی تھی حالانکہ انہیں ایمان لائے کافی مدت گزر چکی تھی دوسری بات یہ تھی کہ سیدنا موسیٰؑ خود جلالی طبیعت کے مالک اور رعب داب رکھنے والے پیغمبر تھے اور اس بگڑی ہوئی قوم پر انہیں کنٹرول رکھنے کا سلیقہ آتا تھا ان کے مقابلہ میں ہارونؑ اگرچہ ان کے حقیقی بھائی اور عمر میں بھی تین سال بڑے تھے تاہم نرم طبیعت انسان تھے انہیں سیدنا موسیٰؑ اپنا قائم مقام بنا کر جا رہے تھے ان حالات میں موسیٰؑ کے دل میں جو خدشہ تھا بالکل بجا تھا اور انہی وجوہ کی بنا پر آپ نے پر زور تاکید کی تھی۔ چنانچہ وہی کچھ ہوا جس کا خطرہ تھا۔ بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰؑ کی عدم موجودگی کو غنیمت جانا اور جس کام کی خواہش ان کے دلوں میں رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہی تھی وہ انہوں نے پوری کر لی۔ ایک بچھڑا بنایا اور اس کی پرستش شروع کر دی اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اپنے جیسے گؤ سالہ پرستی کی خواہش رکھنے والے لوگوں سے سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور انہیں پگھلا کر سونے کے بچھڑنے کا پتلا بنا دیا اور اس کی پوجا پاٹ کرنے لگے ہرچند سیدنا ہارونؑ نے انہیں منع کیا مگر وہ ان سے کہاں باز آنے والے تھے؟۔ سیدنا موسیٰؑ تو ان کے لیے ایسے احکام و ہدایات لانے کے لیے گئے تھے جس سے ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں مگر ان عقل کے اندھوں کو اتنی بھی سمجھ نہ آئی جو معبود انہوں نے گھڑ لیا ہے وہ جب کوئی بات ہی نہیں کرتا تو ان کی رہنمائی کیا کرے گا اس کے باوجود انہوں نے اسے معبود قرار دے لیا تو اس سے بڑھ کر بھی کوئی بے انصافی، ظلم اور شرک کی بات ہو سکتی ہے؟
[146] وہ لوگ کب شرمسار ہوئے اور اللہ نے ان کی توبہ کس شرط پر قبول کی، اس کی تفصیل سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 54 میں گزر چکی ہے۔