ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 147

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الۡاٰخِرَۃِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ؕ ہَلۡ یُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۷﴾٪
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوگئے، وہ اسی کا بدلہ دیے جائیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا
اور یہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام غارت گئے۔ ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ یہ کرتے تھے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

147۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا، ان کے اعمال [144] ضائع ہو گئے اور انہیں وہی کچھ بدلہ دیا جائے گا جو کام وہ (دنیا میں) کرتے رہے
[144] کافروں کے اچھے اعمال کا بدلہ بھی نہ ملنے کی وجہ:۔
اس لیے کہ کسی عمل کے بار آور ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی رضامندی کے لیے ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو اور جس عمل میں یہ تصور ہی موجود نہ ہو کہ وہ عمل اس نیت سے کر رہا ہے کہ آخرت میں مجھے اس کا صلہ ملے گا اس کا صلہ آخر مل بھی کیسے سکتا ہے؟ یہ تو ان اعمال کا حال ہو گا جو اچھے ہوں گے اور جو عمل اللہ کی نافرمانی اور معصیت کی صورت میں ہوں گے ان کی سزا البتہ ضرور ملے گی اور ملنی بھی چاہیے کیونکہ جو شخص اللہ کی زمین پر رہ کر اس کی مخلوق ہو کر اور اس کا رزق کھا کر اس کی مرضی کے خلاف عمل کرتا ہے اسے سزا آخر کیوں نہ ملے؟ اس دنیا میں یہی اصول کار فرما ہے اگر ایک غلام اپنے آقا یا ماتحت اپنے افسر کے حکم کے خلاف کوئی کام کرتا ہے تو اس کو اس کی سزا ملتی ہے اور جو کام وہ اپنے مالک کے لیے نہیں کر رہا اس کا بدلہ اس کے مالک کی طرف سے اسے کبھی نہیں ملتا اسے بدلہ صرف اس کام کا ملتا ہے جو وہ اپنے مالک کے حکم یا مرضی کے مطابق کرتا ہے۔