ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 145

وَ کَتَبۡنَا لَہٗ فِی الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوۡعِظَۃً وَّ تَفۡصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ ۚ فَخُذۡہَا بِقُوَّۃٍ وَّ اۡمُرۡ قَوۡمَکَ یَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِہَا ؕ سَاُورِیۡکُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر چیز کے بارے میں نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، سو انھیں قوت کے ساتھ پکڑ اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کی بہترین باتوں کو پکڑے رکھیں، عنقریب میں تمھیں نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کر دی، تم ان کو پوری طاقت سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں، اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بے حکموں کا مقام دکھلاتا ہوں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

145۔ اور اس کے لئے ہم نے تختیوں [140] میں ہر طرح کی نصیحت اور ہر ایک بات کی تفصیل لکھ دی ہے اور (حکم دیا) اس پر مضبوطی سے عمل کرو اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ وہ ان پر اچھی طرح عمل کریں۔ [141] عنقریب میں تمہیں فاسقوں کا گھر [142] دکھلاؤں گا
[140] تورات کی تختیاں:۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ تورات انہی تختیوں پر لکھی گئی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ ان تختیوں میں صرف چند جامع اور بنیادی احکام لکھے گئے تھے اور تورات بعد میں آپ پر نازل ہوئی۔ ان تختیوں پر کتاب کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان تختیوں کی تعداد کتنی تھی؟ ان تختیوں میں وہی احکام مذکور ہیں جو سورۃ انعام کی آیت نمبر 151 اور 152 میں مذکور ہیں اور یہ سبت کی تعظیم کے حکم سمیت دس احکام بنتے ہیں۔
[141] احسن کے معانی:۔
قرآن کا لفظ باحسنہا کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ میں ذکر کر دیا گیا ہے یعنی ان پر عمل بے دلی سے اور بے کار سمجھ کر نہ کریں بلکہ نہایت خوش دلی، نشاط اور اللہ کی رضا جوئی کے لیے بہتر طریقہ سے ان احکام پر عمل پیرا ہوں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان تختیوں پر لکھی ہوئی عبارت کا جو مفہوم ایک سلیم الطبع انسان کی عقل میں فوری طور پر آجاتا ہے اسی پر عمل کریں ان احکام کی عبارت کو فلسفیانہ موشگافیوں کی سان پر نہ چڑھائیں اور الٹی سیدھی تاویلات میں مشغول نہ ہو جائیں۔
[142] اس جملہ کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تم لوگ اب شام کی طرف جا رہے ہو راستہ میں تم کئی تباہ شدہ قوموں کے آثار قدیمہ کے پاس سے گزرو گے جس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کی نافرمان قوموں کا کیا انجام ہوتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دار الفاسقین سے مراد ملک شام میں عمالقہ کے گھر ہیں جن سے ان بنی اسرائیل کو جہاد کے لیے کہا جا رہا تھا اس معنی کی رو سے یہ جملہ ان کے لیے فتح کی خوشخبری کی حیثیت رکھتا ہے۔