ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 144

قَالَ یٰمُوۡسٰۤی اِنِّی اصۡطَفَیۡتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیۡ وَ بِکَلَامِیۡ ۫ۖ فَخُذۡ مَاۤ اٰتَیۡتُکَ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾
فرمایا اے موسیٰ ! بے شک میں نے تجھے اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر چن لیا ہے، پس لے لے جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

144۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: موسیٰ! میں نے تجھے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لئے تمام لوگوں پر ترجیح [139] دیتے ہوئے تجھے منتخب کر لیا ہے جو کچھ میں تجھے دوں اس پر عمل پیرا ہو اور میرا شکر گزار بن جا“
[139] یعنی اگر دیدار نہیں ہو سکا تو اور تھوڑی نعمتیں اور فضیلتیں تمہیں عطا کی ہیں تمہیں اپنا رسول بنایا اور براہ راست ہم کلامی کا شرف بخشا اور تمام جہان سے تمہیں منتخب کر لیا ہے لہٰذا اب میں جو شرعی احکام تمہیں دے رہا ہوں ان پر اچھی طرح عمل کرنا اور ان نعمتوں پر میرا شکر ادا کرتے رہنا۔