ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 124

لَاُقَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾
یقینا میں ضرور تمھارے ہاتھ اور تمھارے پائوں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا، پھر یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔
میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا
میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

124۔ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی [121] پر چڑھا دوں گا“
[121] فرعون کی دوسری چالاکی، جادوگروں پر عتاب:۔
فرعون نے اپنے بچاؤ کے لیے پہلی تدبیر تو یہ کی تھی کہ موسیٰؑ اور ان کے بھائی کو عوام میں محض ایک جادوگر کی حیثیت سے متعارف کرایا جائے اور اسی لیے اس نے باہمی مشورے سے یہ شاہی دنگل رچایا تھا پھر جب اس مقابلے میں مات کھا گیا تو اپنی خفت اور ندامت کو مٹانے کے لیے دوسری تدبیر یہ اختیار کی کہ ان ایمان لانے والے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ تم پہلے ہی اس سازش میں شریک تھے موسیٰؑ تمہارا استاد ہے اور تم سب اس کے چیلے چانٹے ہو اور تم سب مل کر یہ چاہتے ہو کہ یہاں کے اصل باشندوں کو نکال کر اس ملک پر قبضہ کر لو اس معرکے میں جس انداز سے تم نے فوراً اپنی شکست تسلیم کر لی ہے اس سے یہی کچھ معلوم ہوتا ہے لہٰذا میں تمہیں اس جرم کی قرار واقعی سزا دوں گا اور اس اعلان سے اس کے دو مقصد وابستہ تھے ایک یہ کہ عوام الناس کہیں فی الواقع اللہ کا رسول نہ سمجھنے لگیں، وہ اسے محض ایک جادوگر ہی سمجھیں اور دوسرے یہ کہ اگر کوئی ان پر ایمان لایا تو اس کا بھی وہی حشر ہو گا جس کا ان جادوگروں کے متعلق اعلان کیا گیا ہے۔