ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 116

قَالَ اَلۡقُوۡا ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ وَ اسۡتَرۡہَبُوۡہُمۡ وَ جَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۱۶﴾
کہا تم پھینکو۔ تو جب انھوں نے پھینکا، لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انھیں سخت خوف زدہ کر دیا اور وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے۔
(موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا
(موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی ڈالو، پس جب انہوں نے ڈاﻻ تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھلایا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

116۔ موسیٰ نے کہا: ”تم ہی ڈالو۔ پھر [117] جب انہوں نے (اپنی رسیاں وغیرہ) پھینکیں تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انہیں دہشت زدہ کر دیا اور بڑا زبردست [118] جادو بنا لائے
[117] اور موسیٰؑ نے جو جواب دیا وہ از راہ تکریم نہیں تھا نہ ہی اس لئے کہ ان کی نگاہ میں جادوگر کوئی قابل تعظیم چیز تھے بلکہ اس لیے کہ حق کی وضاحت ہو ہی اس صورت میں سکتی ہے کہ پہلے باطل اپنا پورا زور دکھا لے پھر اس کے بعد اگر حق غالب آئے تو سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ مثلاً اگر موسیٰؑ پہلے اپنا عصا ڈال دیتے تو ممکن تھا کہ مقابلے کی نوبت ہی نہ آتی اور جادوگر پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتے تو لوگوں میں کئی طرح کے شکوک پیدا ہو سکتے تھے یا دوبارہ مقابلے کے لیے جادوگر وقت طلب کر سکتے تھے۔
[118] جادوگروں کا بہت بڑا جادو:۔
جادوگروں نے جب میدان میں اپنی لاتعداد لاٹھیاں اور رسیاں لا پھینکیں اور جادو کے ذریعے لوگوں کی نظر بندی کر دی تو لوگوں کو سارا میدان متحرک سانپوں سے بھرا ہوا نظر آنے لگا لوگ دہشت زدہ ہو گئے کیونکہ اس شاہی دنگل کے لیے جادوگروں نے اتنی تیاریاں کی تھیں کہ اتنے بڑے جادو کی سابقہ ادوار میں نظیر ملنا مشکل تھی۔