ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 115

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾
انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو توُ پھینکے، یا ہم ہی پھینکنے والے ہوں۔
(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں
ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسیٰ! خواه آپ ڈالئے اور یا ہم ہی ڈالیں؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

115۔ (پھر مقابلے کے وقت) جادوگر کہنے لگے: ”موسیٰ! تم ڈالتے [116] ہو یا ہم ڈالیں؟“
[116] جادوگروں کو چونکہ یہی بتلایا گیا تھا کہ ان کا ایک بڑے جادوگر سے مقابلہ ہے لہٰذا سیدنا موسیٰؑ کی عزت و تکریم کی خاطر یہ بات موسیٰؑ سے پوچھی جیسا کہ ایسے مقابلے کے وقت یہی دستور رائج تھا۔