ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 112

یَاۡتُوۡکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۱۱۲﴾
کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔
کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں
کہ وه سب ماہر جادو گروں کو آپ کے پاس ﻻ کر حاضر کر دیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

112۔ جو ہر ماہر جادوگر کو اکٹھا کر کے تیرے [114] پاس لے آئیں“
[114] فرعون اور درباریوں کی مرعوبیت:۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰؑ کی باتیں سن کر فرعون اور فرعونیوں کو واقعی یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ شخص اس ملک میں انقلاب لا سکتا ہے اور اس کی وجوہ کئی تھیں ایک یہ کہ موسیٰؑ نے انہی میں رہ کر تربیت پائی تھی فنون جنگ سیکھے تھے بلکہ ایک دفعہ حبش پر چڑھائی کے دوران انہیں سپہ سالار بنا کر بھی بھیجا گیا اور وہ کامیاب و کامران واپس آئے تھے۔ وہ جرأت مند، دلیر اور مضبوط قد و قامت کے مالک تھے اور ان کی صداقت کے سب لوگ معترف تھے۔ دوسرے یہ کہ موسیٰؑ نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ میں اس اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں جسے تم بھی رب اکبر تسلیم کرتے ہو۔ نیز یہ کہ میں بعینہٖ وہی بات کر رہا ہوں جو میرے پروردگار نے مجھے کہی ہے۔ تیسرے یہ کہ آپ کے معجزات نے فرعون اور فرعونیوں سب کو مرعوب اور دہشت زدہ بنا دیا تھا۔ اور ان لوگوں نے جو موسیٰؑ کو جادوگر کہہ دیا تو یہ محض ایک طفل تسلی، دل کے بہلاوے، وقت کو ٹالنے اور عوام الناس کو اندھیرے میں رکھنے کی غرض سے کہی گئی کہ شاید کچھ مدت گزرنے پر حالات کوئی دوسرا رخ اختیار کر جائیں۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ کوئی جادوگر نہ کبھی کوئی سیاسی انقلاب لایا ہے نہ لا سکتا ہے۔