ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 108

وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ہِیَ بَیۡضَآءُ لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾٪
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکنے والا تھا۔
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وه یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

108۔ اور (بغل سے) اپنا ہاتھ نکالا تو وہ دیکھنے والوں کو چمکدار [112] دکھائی دینے لگا
[112] عصائے موسیٰ اور ید بیضاء:۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰؑ نے فرعون کے مطالبہ پر اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ تھوڑی دیر میں بہت بڑا اژدہا بن گیا اور اپنا منہ کھول کر فرعون ہی کی طرف لپکا۔ فرعون نے سخت دہشت زدگی کی حالت میں موسیٰؑ سے التجا کی کہ اس سانپ کو سنبھال لے۔ آپؑ نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ پھر عصا بن گیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبایا اور اسے نکالا تو وہ سفید اور چمکدار تھا۔ حالانکہ سیدنا موسیٰؑ کا اپنا رنگ گندمی تھا یہ ہاتھ اتنا تابدار ہو کر بغل سے نکلتا تھا جس سے آنکھیں چندھیانے لگتی تھیں۔ یہاں بعض عقل پرست فرقوں کی طرف سے ایک اور بحث بھی چل نکلی ہے کہ آیا اس طبعی دنیا میں ایسے خرق عادت واقعات کا ظہور ممکن بھی ہے یا نہیں؟۔ دوسرے الفاظ میں اس بحث کا عنوان یہ ہے کہ اس کائنات میں انتظام کے لیے اللہ نے جو طبعی قوانین بنائے ہیں کیا وہ خود ان قوانین میں کسی وقت اپنی مرضی کے مطابق تصرف یا رد و بدل بھی کر سکتا ہے یا نہیں؟ عقل پرست ایسے خرق عادت واقعات کا انکار کر دیتے ہیں اور قرآن میں جہاں کہیں ایسے واقعات مذکور ہیں ان کی دوراز کار تاویلات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی دور از کار کہ قرآن کی عبارت جن کی متحمل ہی نہیں ہو سکتی ان حواشی میں اس طویل بحث کی گنجائش نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے میری تصنیف ”عقل پرستی اور انکار معجزات“ نیز آئینہ پرویزیت حصہ اول و دوم)