ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 104

وَ قَالَ مُوۡسٰی یٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾ۙ
اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! بے شک میں جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔
اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

104۔ موسیٰ نے فرعون [110] سے کہا: ”میں یقیناً اللہ رب العالمین کا رسول ہوں
[110] لقب فرعون کی حقیقت اور فرعون کی سلطنت کی وسعت:۔
اس دور میں مصر کے ہر بادشاہ کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا اور ان کا اصلی نام الگ ہوا کرتا تھا۔ فرعون کے لقب کے پیچھے یہ تصور کار فرما تھا کہ سب سے بڑے دیوتا سورج کی روح بادشاہ کے جسم میں حلول کر جاتی ہے اس لحاظ سے وہ بادشاہ اس زمین میں اسی سبب سے بڑے دیوتا یا مہا دیو کا جسمانی مظہر ہوتا ہے اسی بنا پر تمام فراعنہ زمین پر اپنی خدائی کا دعویٰ بھی رکھتے تھے۔ موسیٰؑ کو اپنی زندگی میں دو فرعونوں سے پالا پڑا تھا ایک وہ فرعون جس نے سیدنا موسیٰؑ کی پرورش کی تھی اور اس کا نام رعمسیس تھا۔ جب موسیٰؑ مصر سے بھاگ کر دس سال کا عرصہ سیدنا شعیبؑ کے زیر تربیت رہے اس دوران یہ فرعون مر چکا تھا اور اس کا بیٹا تخت نشین ہو چکا تھا۔ ان کے زمانہ کا صحیح صحیح تعین بہت مشکل ہے کیونکہ تاریخوں میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے تاہم یہ زمانہ سوا ہزار قبل مسیح سے لے کر ڈیڑھ ہزار قبل مسیح کے درمیان ہی ہو سکتا ہے جس فرعون کے سامنے سیدنا موسیٰؑ اپنے معجزات لے کر گئے تھے یہ وہی رعمسیس کا بیٹا تھا جس کی سلطنت بڑی وسیع تھی جو شام سے لے کر لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک پھیلی ہوئی تھی یہ فرعون اس وسیع علاقے کا صرف بادشاہ ہی نہ تھا بلکہ معبود بھی بنا ہوا تھا۔