ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 103

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مُّوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَظَلَمُوۡا بِہَا ۚ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انھوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔ پھر دیکھ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟
پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دﻻئل دے کر فرعون اور اس کے امرا کے پاس بھیجا، مگر ان لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہ کیا۔ سو دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

103۔ ان کے بعد ہم نے [108] موسیٰ کو اپنے معجزات دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا مگر انہوں نے بھی ہمارے معجزات سے نا انصافی [109] کی۔ پھر دیکھ لو۔ فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا
[108] یعنی مذکورہ پانچ معروف پیغمبروں کے حالات بیان کرنے کے بعد پھر وہی سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اس کا آغاز سیدنا موسیٰؑ کے تفصیلی حالات سے ہو رہا ہے۔ درمیان میں انبیاء علیہم السلام کی دعوت اور منکرین دعوت کے انجام کے درمیانی مراحل اور ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ کا ذکر کیا گیا جو ان سب انبیاء علیہم السلام کے حالات میں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہے۔
[109] اللہ کی آیات سے فرعون کی نا انصافی:۔
نا انصافی کی بات یہ تھی کہ انہوں نے ان معجزات کو جادو کے کرشمے کہہ دیا۔ اور یہ نا انصافی ویسی ہی تھی جیسے قریش مکہ نے قرآن سن کر یہ کہہ دیا تھا کہ یہ تو کسی دوسرے آدمی کی تصنیف ہے اور اس جیسا کلام ہم بھی پیش کر سکتے ہیں پھر جب انہیں قرآن نے اس بات کا باقاعدہ طور پر چیلنج کر دیا تو اپنی سر توڑ کوششوں کے باوجود ان کے فصیح و بلیغ ادیبوں سے کچھ بھی بن سر نہ آیا بالکل اسی طرح فرعون اور اس کے درباریوں نے سیدنا موسیٰؑ کے معجزات کو جادو کے کرشمے سمجھ کر اپنے ملک کے بلند پایہ جادوگروں کو آپ سے مقابلے کے لیے لا کھڑا کیا۔ پھر جب ان جادوگروں نے عصائے موسیٰ کی کیفیت دیکھی تو برملا اعتراف کر لیا کہ یہ جادو سے بالاتر کوئی چیز ہے اگر یہ جادو ہوتا تو نا ممکن تھا کہ وہ ہماری دسترس سے باہر ہوتا۔