ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 102

وَ مَا وَجَدۡنَا لِاَکۡثَرِہِمۡ مِّنۡ عَہۡدٍ ۚ وَ اِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَکۡثَرَہُمۡ لَفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
اور ہم نے ان میں سے اکثر کا کوئی بھی عہد نہیں پایا اور بے شک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔
اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) بدکار ہی دیکھا
اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ ان میں اکثر لوگ ایسے تھے جن میں ہم نے عہد کا لحاظ نہ پایا اور ان [107] میں سے اکثر کو فاسق ہی پایا
[107] عہد کو پورا نہ کرنا فسق ہے:۔
عہد سے مراد وہ فطری عہد بھی ہو سکتا ہے جو انسان کی سرشت میں موجود ہے اور یہ عہد ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ کے نام سے مشہور ہے جس کی رو سے ہر انسان نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنے پروردگار کے سوا کسی دوسرے کو معبود نہیں بنائے گا اور وہ عہد بھی جو انسان دوسرے انسانوں سے کرتا ہے خواہ یہ لین دین کے معاملات سے تعلق رکھتا ہو یا نکاح و طلاق کے معاملات سے، اور وہ عہد بھی جو کوئی انسان ذاتی طور پر اپنے پروردگار سے کرتا ہے یعنی عہد خواہ کسی طرح کا ہو اسے توڑنے والا فاسق ہوتا ہے۔