ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 100

اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لِلَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَہۡلِہَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ ۚ وَ نَطۡبَعُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
اور کیا اس بات نے ان لوگوں کی رہنمائی نہیں کی جو زمین کے وارث اس کے رہنے والوں کے بعد بنتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں سزا دیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں تو وہ نہیں سنتے۔
کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں
اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں، پس وه نہ سن سکیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

100۔ جو لوگ ان بستیوں کے ہلاک ہونے کے بعد زمین کے وارث ہوئے کیا انہیں یہ رہنمائی [104] نہیں ملی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے بدلے ان پر (بھی) مصیبت ڈال سکتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر (بھی) کر سکتے ہیں کہ وہ سن ہی نہ سکیں
[104] یعنی اگر وہ چاہتے تو اپنی پیش رو قوم کے انجام سے عبرت حاصل کر سکتے تھے اور یہ بات وہ خوب سمجھ سکتے تھے کہ جن جرائم کی پاداش میں پہلی قومیں ہلاک کی گئی ہیں اگر ہم میں بھی وہ جرائم پائے جائیں تو ہم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو سکتی ہے اور ہمارے دلوں پر بھی ایسی ہی مہر لگ سکتی ہے جب ہمارے کان کوئی ہدایت کی بات سننے پر آمادہ ہی نہ ہوں۔