ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحاقة (69) — آیت 7

سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾
اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔ En
خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا تو (اے مخاطب) تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈھئے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے
En
جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اللہ تعالیٰ نے اس آندھی کو ان پر متواتر سات راتیں اور آٹھ دن مسلط کیے رکھا۔ آپ (وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہاں لوگ یوں (چاروں شانے) چت گرے پڑے [6] ہیں جیسے وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں
[6] یہ لوگ بڑے مضبوط جسم والے، طاقتور اور طویل القامت تھے۔ جب ان کو ہودؑ نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے: ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً (ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟) لیکن جب ہم نے ان پر ہوا کو چھوڑ دیا تو یہ لوگ اس کا بھی مقابلہ نہ کر سکے۔ تندو تیز ہوا نے ان کو یوں چاروں شانے چت گرا دیا کہ طویل القامت ہونے کی وجہ سے ان کے سر گرتے ہی تن سے جدا ہو جاتے تھے۔ اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ کھجوروں کے بے جان اور کھوکھلے تنے پڑے ہوئے ہیں۔