ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحاقة (69) — آیت 3

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحَآقَّۃُ ؕ﴿۳﴾
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے؟ En
اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟
En
اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور آپ کیا سمجھے کہ وہ سچ مچ ہونے والی [1] کیا ہے
[1] انداز کلام کو اس قدر موکد اس لیے بنایا گیا ہے کہ قرآن کے مخاطب قریشی لوگ قیامت کے کٹر منکر تھے۔ اور اس میں بتایا یہ گیا ہے کہ آپ بھی بس اتنا ہی جان سکتے ہیں۔ کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ یہ نہیں جان سکتے کہ کب آئے گی یا اس وقت کیا کیفیت ہو گی۔ چنانچہ اسی سورۃ میں قیامت کی بعض کیفیات بیان کر دی گئی ہیں۔