ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القلم (68) — آیت 6

بِاَىیِّکُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ ﴿۶﴾
کہ تم میں سے کون فتنے میں ڈالا ہوا ہے۔ En
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے
En
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ کہ تم میں سے کون جنون [6] میں مبتلا ہے
[6] یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا نتیجہ جلد از جلد سامنے نہ آئے۔ ایک شخص جو حکم دیتا ہے وہ نیکی اور بھلائی پر مبنی ہوتا ہے پھر وہ خود سب سے پہلے اس حکم پر عمل کر کے دکھاتا ہے۔ ہر برے کام سے اسے طبعاً نفرت ہے۔ وہ انتقام کی صورت میں بھی کوئی بری بات اپنانے کو تیار نہیں۔ فیاضی اور سماحت اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو لوگ ہیں انہیں طعن و تشنیع، ایذا رسانی اور انتقامی کارروائیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں، جو بات وہ سوچتے ہیں بغض و عناد اور دوسروں کی جڑ کاٹ دینے کے لیے سوچتے ہیں۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ جلد از جلد ان دونوں کا انجام ایک دوسرے کے سامنے نہ آجائے۔ اس وقت ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ دیوانگی اور پاگل پن کی حرکتیں کون کر رہا تھا؟