ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القلم (68) — آیت 42

یَوۡمَ یُکۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾
جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور وہ سجدے کی طرف بلائے جائیں گے تو وہ طاقت نہیں رکھیں گے۔ En
جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائے گا اور کفار سجدے کے لئے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کر سکیں گے
En
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور انہیں سجدہ کرنے کو بلایا جائے گا تو یہ سجدہ [19] نہ کر سکیں گے
[19] اللہ کی پنڈلی کا ذکر :۔
آیت نمبر 42 اور 43 کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”قیامت کے دن پروردگار اپنی پنڈلی کھولے گا تو ہر مومن مرد اور مومن عورت سجدہ میں گر پڑیں گے۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو لوگوں کو دکھلانے یا سنانے کے لئے سجدہ کیا کرتے تھے۔ وہ سجدہ تو کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پشت اکڑ کر ایک تختہ کی طرح ہو جائے گی“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
بعض علماء نے ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ: ”جس دن حقائق سے پردہ اٹھا دیا جائے گا“ اگر یہ اہل عرب کا محاورہ ہو تب بھی ہم ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ایسے محاورہ کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی کیسی ہے کیا یہ انسانوں کی پنڈلی کی طرح ہے یا اس کی کوئی اور صورت ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم یہ بات نہ جان سکتے ہیں اور نہ جاننے کے مکلف ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اگر اللہ نے اپنی پنڈلی کا ذکر کیا ہے تو ہم اتنی ہی بات مانتے ہیں، اس کے آگے کچھ نہیں۔