ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الملك (67) — آیت 9

قَالُوۡا بَلٰی قَدۡ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ۙ فَکَذَّبۡنَا وَ قُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ ﴿۹﴾
وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ یقینا ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔ En
وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو
En
وه جواب دیں گے کہ بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نےکچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ تم بہت بڑی گمراہی میں ہی ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ وہ کہیں گے: ”کیوں نہیں، ڈرانے والا تو ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا: ”اللہ نے تو کچھ نہیں اتارا، تم ہی بڑی گمراہی میں پڑے [13] ہوئے ہو“
[13] یہ بڑی گمراہی کیا تھی؟
یہی بعث بعد الموت کا عقیدہ۔ کافر اسے ہی سب سے بڑی گمراہی سمجھتے تھے۔ کہ آج تک تو کوئی شخص مر کر واپس آیا نہیں۔ پھر ہم اس بات کو کیونکر تسلیم کر سکتے ہیں؟