ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الملك (67) — آیت 22

اَفَمَنۡ یَّمۡشِیۡ مُکِبًّا عَلٰی وَجۡہِہٖۤ اَہۡدٰۤی اَمَّنۡ یَّمۡشِیۡ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۲﴾
تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل الٹا ہو کر چلتا ہے، زیادہ ہدایت والا ہے، یا وہ جو سیدھا ہو کر درست راستے پر چلتا ہے؟ En
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟
En
اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سیدھا کھڑا ہو کر راہ راست [25] پر چل رہا ہو؟
[25] یعنی کوئی شخص کامیابی اور مقصد کے حصول کی راہ اسی صورت میں طے کر سکتا ہے جب وہ سیدھے راستے پر چلے اور سیدھا ہو کر چلے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی ناہموار اور ٹیڑھے میڑھے راستہ پر چلنا شروع کر دے اور وہ بھی منہ کے بل یا چوپایوں کی طرح منہ ڈالے ہوئے تو اس کے منزل مقصود تک پہنچنے کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ اس آیت میں یہ دراصل ایک موحد اور ایک مشرک کی مثال بیان کی گئی ہے۔ موحد کی راہ سیدھی اور صاف ہوتی ہے اور اس پر چلنے کے لئے اس کے پاس واضح ہدایات اور علم کی روشنی میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرک کی ایک نہیں کئی راہیں ہوتی ہیں اور وہ سب راہیں تاریکی اور ضلالت کی ہی ہو سکتی ہیں۔ پھر اس کے پاس علم کی روشنی کے بجائے محض اوہام و قیاسات ہوتے ہیں۔ محشر میں بھی دونوں کی چال میں ایسا ہی فرق ہو گا۔