وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے
En
15۔ وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے تابع [18] کر رکھا ہے اس کی اطراف میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ اور اسی کے پاس تمہیں [19] زندہ ہو کر جانا ہے
[18]﴿ذَلُوْلٌ﴾﴿ذل﴾ بمعنی کمزور اور زبردست ہونا اور ﴿ذَلُوْلٌ﴾ بمعنی کسی چیز کا طوعاً اپنی سرکشی کو چھوڑ کر مطیع و منقاد ہو جانا ہے اور یہ لفظ انسان کا اپنی محنت سے کسی چیز کو اپنا تابع فرمان بنانے اور اس چیز کے تابع فرمان بن جانے کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں محنت کر کے جیسے فائدے اس سے حاصل کرنا چاہتے ہو کر سکتے ہو۔ اس میں کھیتی باڑی کر سکتے ہو۔ اس سے معدنیات اور دوسرے زمین میں مدفون خزانے نکال سکتے ہو اس میں سفر کر کے تجارتی فوائد حاصل کر سکتے ہو۔
[19] اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل :۔
یعنی زمین سے تم جتنے فائدے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ۔ لیکن یہ بات تمہیں ہر وقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ تم مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہو لہٰذا زمین سے فائدے اٹھاتے ہوئے تمہیں دوسروں کی حق تلفی نہ کرنا چاہیے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔