ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الملك (67) — آیت 14

اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿٪۱۴﴾
کیاوہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔ En
بھلا جس نے پیدا کیا وہ بےخبر ہے؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور (ہر چیز سے) آگاہ ہے
En
کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ بھلا وہ نہ جانے گا جس نے (سب کو) پیدا کیا [16] ہے؟ وہ تو باریک بین [17] اور ہر چیز سے پوری طرح با خبر ہے
[16] یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص کسی چیز کو پیدا کرتا یا بناتا یا وجود میں لاتا ہے۔ جتنا وہ اس چیز سے واقف ہوتا ہے۔ دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ پھر وہ انسان کے افعال و اعمال حتیٰ کہ اس کے دل کے ارادہ سے ناواقف اور بے خبر کیسے رہ سکتا ہے۔ اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا اللہ کو یہ بھی علم نہیں کہ اس نے کون کون سی چیزیں پیدا کی ہیں؟
[17] ﴿لطيف﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿لَطِيْفٌ ﴿لطف﴾ کے معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں، (1) رقت نظر اور (2) نرمی۔ اور ﴿لطيف﴾ کے معنی میں کبھی صرف ایک ہی بات یعنی رقت نظر یا باریک بینی یا راز اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے آگاہی پائی جاتی ہے۔ اور کبھی دونوں باتیں پائی جاتی ہیں یعنی مخلوق کی چھوٹی چھوٹی تکالیف کا علم رکھنا اور پھر ازراہ مہربانی ان کا ازالہ کرتے رہنا۔