ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الملك (67) — آیت 1

تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾
بہت برکت والا ہے وہ کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
En
بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

[1] با برکت [2] ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت [3] ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
[1] سورۃ الملک کی فضیلت :۔
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں ایک تیس آیتوں والی سورت ہے۔ اس سورت نے ایک آدمی کی شفاعت کی تاآنکہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورت ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ (الملک) ہے۔ [ترمذی۔ ابواب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فی سورۃ الملک]
سیدنا جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک سورۃ المّ تَنْزِیْلَ اور ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ پڑھ نہ لیتے۔ [ترمذي۔ ايضاً]
[2] ﴿تَبَارَكَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿تَبَارَكَ برکت کے معنی کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کا ثابت ہونا ہے (مفردات) یعنی جو کام کیا جائے اس میں متوقع زیادہ سے زیادہ فائدہ ہونے کا نام برکت ہے۔ بشرطیکہ یہ کام خیر کا پہلو رکھتا ہو اور جس چیز میں یہ خیر کا پہلو بارآور ثابت ہو وہ مبارک ہے۔ اور تبرک کا لفظ اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور صرف ان خیر کے کاموں کے لیے آتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہیں۔ اس آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر ایک چیز کو جس بہتر مقصد کے لیے پیدا فرمایا تھا وہ چونکہ بدرجہ اتم وہ مقصد پورا کر رہی ہے لہٰذا اللہ کی ذات تبارک یعنی با برکت ہوئی۔
[3] ﴿الْمُلْكُ یعنی کائنات کی ہر چیز پر مکمل بادشاہت، حکومت اور اختیار۔ اور ایسی قدرت کہ کوئی چیز بھی اللہ کے حکم کے سامنے دم نہیں مار سکتی۔