عَسٰی رَبُّہٗۤ اِنۡ طَلَّقَکُنَّ اَنۡ یُّبۡدِلَہٗۤ اَزۡوَاجًا خَیۡرًا مِّنۡکُنَّ مُسۡلِمٰتٍ مُّؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبۡکَارًا ﴿۵﴾
اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔
En
اگر پیغمبر تم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ ان کا پروردگار تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دے دے۔ مسلمان، صاحب ایمان فرمانبردار توبہ کرنے والیاں عبادت گذار روزہ رکھنے والیاں بن شوہر اور کنواریاں
En
اگر وه (پیغمبر) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں ان کا رب! تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں اللہ کے حضور جھکنے والیاں توبہ کرنے والیاں، عبادت بجا ﻻنے والیاں روزے رکھنے والیاں ہوں گی بیوه اور کنواریاں
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ کچھ بعید نہیں کہ اگر نبی تمہیں طلاق دے دے [7] تو اس کا پروردگار اسے تم سے بہتر [8] بیویاں بدل دے جو مسلمان، مومن، اطاعت گزار [9]، توبہ کرنے والی، عبادت گزار اور روزہ دار [10] ہوں، خواہ وہ شوہر [11] دیدہ ہو یا کنواریاں ہوں
[7] سیدہ عائشہ اور حفصہ پر عتاب :۔
ان دونوں ازواج مطہرات کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر توبہ کر لو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اور نبی کو ستانا چھوڑ دو۔ زوجین کے خانگی معاملات بعض دفعہ ابتداءً بالکل معمولی سے معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر ذرا باگ ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو نہایت خطرناک اور تباہ کن صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ خصوصاً عورت اگر کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو اس کو طبعاً اپنے باپ، بھائی اور خاندان پر ناز ہوتا ہے۔ سیدنا عمرؓ عورت کی اس فطرت کو خوب سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہی دنوں سیدنا عمرؓ اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور کہنے لگے: بیٹی! کیا بات ہے تو رسول اللہ سے سوال و جواب کرتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ سارا دن غصہ میں رہتے ہیں۔ سیدہ حفصہؓ نے کہا: واللہ! ہم تو سوال و جواب کرتی رہتی ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: خوب سمجھ لے اور میں تجھے اللہ کی سزا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے ڈراتا ہوں۔ بیٹی! تو اس عورت کی وجہ سے دھوکا مت کھانا جو اپنے حسن و جمال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر نازاں ہے اور اس سے ان کی مراد سیدہ عائشہؓ تھی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ تفسير سورة تحريم]
اسی لئے ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایکا کر کے اسی طرح کی کارروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں تو اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود، اس کے فرشتے جبرئیلؑ اور نیک بخت ایماندار سب درجہ بدرجہ اس کے مددگار ہیں اور ان کے سامنے تمہاری کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔
اسی لئے ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایکا کر کے اسی طرح کی کارروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں تو اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود، اس کے فرشتے جبرئیلؑ اور نیک بخت ایماندار سب درجہ بدرجہ اس کے مددگار ہیں اور ان کے سامنے تمہاری کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔
[8] آپ کی ازواج کا خرچ کے سلسلہ میں آپ کو پریشان کرنا :۔
پہلے دو بیویوں (سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ کی بات چل رہی تھی، اس آیت میں سب بیویوں کو خطاب کر کے ان پر عتاب کیا جا رہا ہے۔ ایک حلال چیز کو حرام قراردینے کے معاملہ میں تو واقعی صرف سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ کا تعلق تھا۔ لیکن ایک اور معاملہ بھی تھا۔ جس کا سب بیویوں سے تعلق تھا۔ وہ یہ تھا کہ فتوحات خیبر اور اموال غنائم سے مسلمانوں کی معاشی حالت آسودہ ہو گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر کا خرچ زیادہ لینے کا مطالبہ کر دیا۔ اور اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں نہ ہوتیں بلکہ عام عورتیں ہوتیں تو ایسے مطالبہ میں ان کا کچھ قصور بھی نہ تھا اور اگر آپ چاہتے تو انہیں اموال غنائم سے اپنے گھروں میں زیادہ دے بھی سکتے تھے اور اللہ نے آپ کو ایسا اختیار دے بھی رکھا تھا۔ مگر چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طبعاً فقر پسند تھا۔ لہٰذا بیویوں کا یہ مطالبہ آپ پر گراں گزرا۔ پھر بیویوں نے بھی اس بات کو صرف مطالبہ کی حد تک نہ رکھا بلکہ ایکا کر کے آپ سے بحث اور جھگڑا بھی کیا کرتی تھیں۔ اور بسا اوقات ایسی باہمی شکر رنجی میں پورا پورا دن گزر جاتا تھا۔ اسی کیفیت کا حال معلوم ہونے پر سیدنا عمرؓ اپنی بیٹی کے ہاں گئے۔ اور انہیں سمجھایا اور کہا دیکھو تم اللہ کے رسول سے جھگڑنا چھوڑ دو۔ اور سیدہ عائشہؓ پر اپنے آپ کو گمان کر کے اس کی ریس نہ کرو اور نہ اس معاملہ میں دوسروں کا ساتھ دو۔ اور اگر کوئی چیز خرچہ وغیرہ مطلوب ہو تو اس کا مطالبہ مجھ سے کر لو۔ پھر سیدنا عمرؓ سیدہ ام سلمہؓ کے ہاں گئے اور انہیں بھی یہی بات سمجھائی کیونکہ وہ بھی سیدنا عمرؓ کی رشتہ دار تھیں تو انہوں نے سیدنا عمرؓ کو ٹکا سا جواب دیا اور کہنے لگیں تم کون ہوتے ہو ہمارے معاملات میں دخل دینے والے؟ پھر جب عمرؓ نے یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ مسکرا دیئے۔ انہیں ایام میں سیدنا عمرؓ نے حالات کا جائزہ لے کر اس خیال کا اظہار کیا تھا جو درج ذیل حدیث میں مذکور ہے۔ اور یہی اس آیت کا شان نزول ہے: سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھی مل کر آپ سے لڑنے جھگڑنے لگیں تو میں نے انہیں کہا: ”کچھ بعید نہیں کہ پیغمبر تم سب کو طلاق دے دے اور اس کا رب تم سے بہتر بیویاں بدل دے“ اس وقت (جیسا میں نے کہا تھا ویسے ہی) یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
لیکن اس کے باوجود بھی جب ازواج مطہرات اپنے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئیں تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر شاق گزرا کہ آپ ایک ماہ کے لیے اپنی سب بیویوں سے الگ ہو گئے اور ایک بالا خانے میں جا کر مقیم ہو گئے۔ یہی واقعہ، واقعہ ایلاء کہلاتا ہے۔ جو سورۃ احزاب کی آیت نمبر 28 اور 29 کے حواشی میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
[9] ﴿قَانِتَاتٌ﴾ ﴿قنوت﴾ ایسی اطاعت کو کہتے ہیں جو پورے خشوع و خضوع یکسر توجہ اور دل کی رضا مندی سے بجا لائی جائے۔ اور یہ اطاعت اللہ کی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے رسول کی بھی [33: 31] اور عورتوں کے لیے اپنے خاوندوں کی بھی [4: 34] اور اس آیت میں تینوں کی ہی اطاعت مراد ہے۔
لیکن اس کے باوجود بھی جب ازواج مطہرات اپنے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئیں تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر شاق گزرا کہ آپ ایک ماہ کے لیے اپنی سب بیویوں سے الگ ہو گئے اور ایک بالا خانے میں جا کر مقیم ہو گئے۔ یہی واقعہ، واقعہ ایلاء کہلاتا ہے۔ جو سورۃ احزاب کی آیت نمبر 28 اور 29 کے حواشی میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
[9] ﴿قَانِتَاتٌ﴾ ﴿قنوت﴾ ایسی اطاعت کو کہتے ہیں جو پورے خشوع و خضوع یکسر توجہ اور دل کی رضا مندی سے بجا لائی جائے۔ اور یہ اطاعت اللہ کی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے رسول کی بھی [33: 31] اور عورتوں کے لیے اپنے خاوندوں کی بھی [4: 34] اور اس آیت میں تینوں کی ہی اطاعت مراد ہے۔
[10] ﴿سائح﴾ اور ﴿صائم﴾ میں فرق :۔
﴿سَائِحَاتٌ﴾ ساح الماء بمعنی پانی کا آوارہ پھرنا اور ﴿ساحة﴾ بمعنی فراخ جگہ اور ﴿ساحة الدار﴾ بمعنی گھر کا آنگن اور ساح بمعنی سیر و سیاحت کرنا یا کرتے پھرنا خواہ اس کا مقصد تفریح ہو یا کوئی اور ہو اور ان معنوں میں بھی قرآن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ [9: 2]
اس لحاظ سے ﴿سائح﴾ کے معنی محض سیر و سفر کرنے والا ہے۔ لیکن بعد میں یہ لفظ ایسے درویشوں کے لئے استعمال ہونے لگا جو چلتے پھرتے تھے۔ روزہ بھی رکھتے تھے اور جملہ حکمی پابندیوں کو بھی ملحوظ رکھتے تھے پھر یہ الفاظ ایسے روزہ داروں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو کھانے پینے کی بندش کے علاوہ اپنے جوارح یعنی آنکھ، کان اور زبان وغیرہ کو معاصی سے بچائے رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور صاحب منجد کے نزدیک ایسے روزہ دار کو کہتے ہیں جو زیادہ تر مسجد میں رہے۔ جبکہ صائم ہر روزہ دار کو کہہ سکتے ہیں۔
[11] یعنی ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ کہیں اس زعم میں مبتلا نہ ہو جانا کہ آخر مرد کو بیویوں کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے اور ہم سے بہتر عورتیں کہاں ہیں اس لیے ہم اگر دباؤ ڈالیں گی تو سب باتیں منظور کر لی جائیں گی۔ یادرکھو کہ اگر اللہ چاہے تو تم سے بہتر بیویاں اپنے نبی کو مہیا کر دے اور تمہیں رخصت کر دیا جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ازواج مطہرات میں مذکورہ صفات موجود نہ تھیں۔ بلکہ یہ ہے کہ نبی کی بیویوں میں یہ صفات بدرجہ اتم ہونا چاہئیں اور ازواج مطہرات کا یہ مطالبہ صفت قانتات میں تقصیر ہونے کی وجہ سے تھا۔
اس لحاظ سے ﴿سائح﴾ کے معنی محض سیر و سفر کرنے والا ہے۔ لیکن بعد میں یہ لفظ ایسے درویشوں کے لئے استعمال ہونے لگا جو چلتے پھرتے تھے۔ روزہ بھی رکھتے تھے اور جملہ حکمی پابندیوں کو بھی ملحوظ رکھتے تھے پھر یہ الفاظ ایسے روزہ داروں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو کھانے پینے کی بندش کے علاوہ اپنے جوارح یعنی آنکھ، کان اور زبان وغیرہ کو معاصی سے بچائے رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور صاحب منجد کے نزدیک ایسے روزہ دار کو کہتے ہیں جو زیادہ تر مسجد میں رہے۔ جبکہ صائم ہر روزہ دار کو کہہ سکتے ہیں۔
[11] یعنی ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ کہیں اس زعم میں مبتلا نہ ہو جانا کہ آخر مرد کو بیویوں کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے اور ہم سے بہتر عورتیں کہاں ہیں اس لیے ہم اگر دباؤ ڈالیں گی تو سب باتیں منظور کر لی جائیں گی۔ یادرکھو کہ اگر اللہ چاہے تو تم سے بہتر بیویاں اپنے نبی کو مہیا کر دے اور تمہیں رخصت کر دیا جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ازواج مطہرات میں مذکورہ صفات موجود نہ تھیں۔ بلکہ یہ ہے کہ نبی کی بیویوں میں یہ صفات بدرجہ اتم ہونا چاہئیں اور ازواج مطہرات کا یہ مطالبہ صفت قانتات میں تقصیر ہونے کی وجہ سے تھا۔