اور اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی، جب اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔
En
اور مومنوں کے لئے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے خدا سے التجا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے اعمال (زشت مآل) سے نجات بخش اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھ کو مخلصی عطا فرما
اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی جبکہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ﻇالم لوگوں سے خلاصی دے
En
11۔ نیز اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی [23] کی مثال پیش کرتا ہے جب اس نے دعا کی کہ: ”اے میرے پروردگار! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور ان ظالموں سے بھی نجات دے۔
[23] سیدہ مریم اور سیدہ آسیہ زوجہ فرعون کی فضیلت :۔
یہ فرعون کی وہی بیوی آسیہ تھی جس نے فرعون کو کہا تھا کہ دیکھو یہ (سیدنا موسیٰ) کتنا پیارا بچہ ہے۔ کیوں نہ ہم اس کی تربیت کریں اور اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ پھر اس کی تربیت بھی کی تھی۔ وہ سیدنا موسیٰ پر ایمان لا چکی تھی۔ جب فرعون پر اس کے ایمان کا حال کھلا تو اسے طرح طرح کی ایذائیں پہنچانے لگا۔ پھر جب آسیہ اپنے ایمان پر قائم رہی تو اس نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اسے مروا ڈالے۔ اس وقت اس نے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے اب ان ظالموں سے نجات عطا فرما۔ اور مجھے اپنے ہاں بلا لے اور جنت میں میرے رہنے کو ایک گھر بنادے۔ اس کی یہ دعا قبول ہو گئی اور موت آنے سے پہلے ہی سکرات موت میں اللہ نے اسے جنت میں اس کا محل دکھا دیا۔ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”مردوں میں تو بہت سے لوگ کامل گزرے ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی۔ اور عائشہؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر“ [بخاري۔ كتاب المناقب۔ باب فضل عائشة رضي الله عنها]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔