ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التحريم (66) — آیت 1

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ۚ تَبۡتَغِیۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِکَ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱﴾
اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟ تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو؟ (کیا اس سے) اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو؟ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے۔ اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے [1] ہیں اور اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
[1] آپ کا شہد نہ پینے پر قسم کھانا اور راز داری کی تلقین کرنا :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روز مرہ کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر کے بعد اپنے سب گھروں میں اپنی بیویوں کے ہاں چکر لگایا کرتے تھے۔ تاکہ گھریلو حالات سے پوری طرح باخبر رہیں اور خیر و عافیت کی صورت معلوم ہوتی رہے۔ ایک دفعہ جب آپ سیدہ زینب بنت جحشؓ کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا۔ اس طرح آپ کو وہاں کچھ دیر لگ گئی۔ دوسرے دن بھی آپ کو سیدہ زینب بنت جحشؓ نے شربت پلایا اور چونکہ آپ کو شہد اور اس کا شربت بہت پسند تھا۔ لہٰذا یہ بھی ایک طرح سے روزمرہ کا معمول بن گیا کہ سیدنا زینبؓ کے ہاں آپ کو کچھ دیر لگ جاتی تھی۔ یہ بات دوسری بیویوں اور بالخصوص سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ کو ناگوار گزری۔ کیونکہ آپ کی بیویوں میں سے ہر ایک یہی چاہتی تھی کہ وہی زیادہ تر آپ کی توجہات کا مرکز بنے۔ چنانچہ سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ نے آپ کی اس عادت، یعنی سیدہ زینبؓ کے ہاں شہد کا شربت پینے کی عادت کو چھڑانے کی یہ ترکیب سوچی۔ کہ آپ سے کہا جائے کہ آپ کے منہ سے تو مغافیر (ایک قسم کا گوند جس کی بو ناگوار ہوتی ہے) کی بو آتی ہے پھر جب ایک بیوی نے بھی یہی بات کہی اور دوسری نے بھی ایسی بات کہی تو آپ کو وہم ہونے لگا کہ شاید ایسی بدبو واقعی آرہی ہو اور آپ کو بدبو دار چیزوں سے سخت نفرت بھی تھی۔ اور ان بیویوں کی دلجوئی بھی مقصود تھی۔ لہٰذا آپ نے قسم کھا لی کہ میں آئندہ سیدہ زینبؓ کے ہاں سے شہد نہیں پیا کروں گا۔ امام بخاری نے مختصراً اس واقعہ کو یوں روایت کیا ہے: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحشؓ کے ہاں ٹھہرے رہتے اور شہد پیا کرتے تھے۔ میں اور حفصہؓ نے آپس میں طے کیا کہ ہم سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں، وہ یوں کہے: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے۔ مجھے تو آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے“ (پھر ایسا ہی کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! بلکہ میں نے زینب بنت جحشؓ کے ہاں سے شہد پیا ہے۔ اب میں قسم کھاتا ہوں کہ آئندہ کبھی شہد نہ پیوں گا۔ اور تم یہ بات کسی کو مت بتانا“ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ تفسير سورة تحريم]
حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ کو ہے :۔
ضمناً اس آیت سے کئی اہم امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً:
1۔ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ کسی نبی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ اختیار نہ تھا کہ اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال یا حرام یا کسی حلال چیز کو حرام یا کسی حرام چیز کو حلال قرار دے دیں۔
رسول کی حیثیت عام لوگوں سے علیحدہ ہوتی ہے :۔
کسی انسان کا کسی مصلحت کی خاطر کسی حلال چیز کو اپنے لئے حرام قرار دے لینا، یا اسے کچھ عرصہ کے لئے ترک کر دینا یا اسے چھوڑنے کی قسم کھا لینا بذات خود کوئی بڑا جرم نہیں ہے۔ جیسے بعض لوگوں کو بڑا گوشت نقصان پہنچاتا ہے تو اسے کھانا چھوڑ دیں یا نہ کھانے کی قسم اٹھا لیں تو یہ جرم نہ ہو گا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ذاتی نوعیت کا حامل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی اصل اور بنیادی حیثیت رسول کی ہوتی ہے جس کا ہر کام امت کے لیے نمونہ اور واجب الاتباع ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل پر اللہ کی طرف سے گرفت ہوئی کہ مبادا آپ کی امت بھی شہد کو حرام یا کم از کم مکروہ ہی نہ سمجھنے لگے۔ بالفاظ دیگر نبی کا جو کام اللہ کی رضا اور منشا کے مطابق نہ ہو، خواہ وہ ترک اولیٰ قسم کا ہی ہو، اس کی فوراً بذریعہ وحی جلی اصلاح کر دی جاتی ہے۔
وحی خفی کی اقسام :۔
جس طرح سنت کی تین اقسام ہیں۔ قولی، وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے معلوم ہو یا ثابت ہو، فعلی، وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے معلوم ہو یا ثابت ہو اور تحریری سنت وہ ہوتی ہے کہ کوئی فعل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے واقع ہو اور آپ نے اس پر گرفت نہ فرمائی ہو یا سکوت اختیار فرمایا ہو اور ایسی سنت بھی قابل حجت ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی خفی (قرآن کے علاوہ دوسری قسم کی وحی) کی بھی تین اقسام ہیں۔ قولی وحی وہ اقوال ہیں جو جبرئیلؑ کے ذریعہ آپ پر نازل ہوئے جیسے ادعیہ مسنونہ اور تشہد وغیرہ۔ فعلی وحی وہ کام ہے جس کے کرنے کا طریق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرئیلؑ نے سکھایا ہو مثلاً نماز ادا کرنے کا طریقہ اور تقریری وحی وہ ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اجتہاد، قول یا فعل پر اللہ نے از راہ صواب سکوت اختیار فرمایا ہو۔ اور آپ کی زندگی کے بہت سے اقوال و افعال ایسے ہی ہیں۔ اور اگر آپ کے کسی قول یا فعل میں کوئی بات اللہ کی منشا کے خلاف ہو تو اس پر فوراً تنبیہ کر کے اس کی اصلاح کر دی جاتی ہے۔
عصمت انبیا کا مفہوم :۔
کسی بڑے سے بڑے برگزیدہ انسان حتیٰ کہ انبیاء سے بھی غلطی کا صدور ممکن ہے فرق صرف یہ ہے کہ انبیا کی غلطی کی فوراً بذریعہ وحی اصلاح کر دی جاتی ہے جس سے ان کی زندگی بالکل بےداغ (جسے ہم اصطلاحی زبان میں عصمت انبیاء کہتے ہیں) ایک قابل تقلید نمونہ اور امت کے لیے واجب الاتباع بن جاتی ہے اور یہ مقام انبیاء کے علاوہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوتا۔