اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔
En
اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو۔ اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔ خدا اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہتا ہے) پورا کردیتا ہے۔ خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے
اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے
En
3۔ اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں اسے وہم و گمان [12] بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا [13] ہے۔ بلا شبہ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر [14] کر رکھا ہے۔
[12] اس مقام پر رزق کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ انسان دوران عدت مطلقہ عورت پر خرچ کرنے اور اس کو بھلے طریقے سے رخصت کرنے میں بخل سے کام نہ لے بلکہ اس سے جتنا بہتر سلوک کر سکتا ہے، کرے۔ نیز بعض دفعہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے۔ مگر عورت صاحب جائیداد ہوتی ہے یا اچھا کما سکتی ہے۔ تو خاوند اس کو چھوڑنے پر ہی آمادہ نہیں ہوتا۔ مگر اس سے اچھا سلوک کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ عورت کو اپنے ہاں لٹکائے رکھتا ہے۔ ایسی سب صورتوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے وہی کام کرنا چاہئے جو اللہ کا حکم ہو۔ تنگدستی سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اس سے ڈر کر اسی کے حکم کے مطابق چلے گا تو اس کی تنگدستی کو دور کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچانے کا انتظام فرما دے گا جو پہلے اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ [13] اس لیے کہ ہر قسم کے ظاہری اور باطنی اسباب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جبکہ انسان کی نظر صرف چند ظاہری اسباب تک محدود ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ اللہ سے ڈرنے والے کے لیے پریشانیوں سے نجات کی راہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اور تنگدستی کو دور کرنے کے لیے نئے اسباب بھی پیدا کر سکتا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ کی قدرت اسباب کی پابند نہیں۔ بلکہ اسباب بھی اس کی مشیت کے تابع ہیں۔ وہ ظاہری اسباب سے ایسے نتائج حاصل کرنے کی قدرت رکھتا ہے جو انسانی عقل کے برعکس ہوں۔ جیسے اللہ کی مشیت نہ ہو تو مجرب دوائی بھی الٹا اثر دکھا دیتی ہے۔ یا ایک مضر دوائی سے بعض دفعہ انسان صحت یاب ہو جاتا ہے۔ [14] یعنی اگر کسی الجھنوں میں گرفتار شخص کو اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرنے پر نجات کی راہ نہیں مل سکی یا کسی شخص نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی مطلقہ بیوی سے فیاضانہ سلوک کیا مگر اس کی تنگدستی فوراً دور نہیں ہوئی تو اس سے اسے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ اس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر ہے اسی کے مطابق وہ ظہور پذیر ہوتی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔