3۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو حقیقی مصلحت سے پیدا [5] کیا اور تمہاری صورتیں [6] بنائیں تو بہت عمدہ [7] بنائیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا [8] ہے
[5] وہ حقیقی مصلحت یہ تھی کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا کر دیں جو انسان کی زندگی اور زندگی کی بقا کے لئے ضروری تھیں۔ تمام اشیاء کو انسان کا خادم بنا دیا اور وہ تمام چیزیں انسان ہی کی خدمت پر مامور ہیں۔
[6] انسان میں دوسری مخلوق سے کیا کیا صفات زائد ہیں؟
یعنی انسان کو سیدھا کھڑا ہو کر دو پاؤں پر چلنے والی مخلوق بنایا۔ اسے بولنے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے اور جواب دینے کی قوتیں عطا فرمائیں۔ پھر اس کو یہ عقل و شعور بھی بخشا کہ وہ تمام مخلوق سے اپنے حسب ضرورت کام لے سکے، انہیں اپنا مطیع و منقاد بنا سکے اور ان پر حکومت کر سکے۔ اور یہ صفات انسان کے علاوہ اور کسی مخلوق کو عطا نہیں کی گئیں۔ اس کے اعضاء کی ساخت بھی ایسی بنائی کہ ایک ایک عضو سے وہ کئی کئی کام لے سکتا ہے۔ اور اپنی عقل اور اعضاء سے کام لے کر ایک طرف تو کائنات کی تسخیر کیے چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف نت نئی ایجادات کو وجود میں لاتا رہتا ہے۔ [7] یعنی انسان کا ڈیزائن بھی عمدہ بنایا پھر اس کی صورت بھی بہت خوب بنائی۔ یہ نہیں کیا کہ کسی انسان کی ایک آنکھ بڑی ہو اور دوسری چھوٹی یا ایک آنکھ کالی ہو دوسری نیلی یا ایک نتھنا بڑا ہو اور دوسرا چھوٹا یا ایک ہاتھ لمبا ہو اور دوسرا چھوٹا۔ جس سے انسان بد صورت ہی نہیں بلکہ خوفناک اور ڈراؤنا بھی معلوم ہونے لگے۔ پھر اتنی ہمہ گیر یکسانیت کے باوجود ہر ایک کی شکل اور نقش و نگار الگ الگ بنائے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی ناک یا اس کی آنکھیں پیچھے گردن پر یا پیٹھ کو لگا دیتا تو اندازہ کر لیجئے کہ انسان کتنی بد صورت مخلوق ہوتا۔ [8] اللہ کا اس کائنات کو بنانا۔ اس کا مربوط انتظام کرنا۔ اس کے بعد انسان جیسی اشرف المخلوقات اور احسن تقویم والی مخلوق کو پیدا کرنا پھر اس میں لگاتار زندگی اور موت کا سلسلہ جاری کرنا۔ یہ سب کام تو تم دیکھ ہی رہے ہو۔ پھر کیا مرنے کے بعد اسے تمہیں اپنے پاس حاضر کر لینا ہی مشکل بن جائے گا؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔