ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التغابن (64) — آیت 15

اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۵﴾
تمھارے مال اور تمھاری اولاد تو محض ایک آزمائش ہیں اور جو اللہ ہے اسی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ En
تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے۔ اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے
En
تمہارے مال اور اوﻻد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں۔ اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ بلا شبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش [23] ہیں اور اللہ ہی ہے جس کے ہاں بڑا اجر ہے۔
[23] مال اور اولاد ہر انسان کی آزمائش ہے :۔
یہاں آزمائش کے لئے فتنۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فتنۃ میں عام طور پر ایسی چیزوں سے آزمائش ہوتی ہے جن سے انسان محبت کرتا ہے اور ان سے اس کا دلی لگاؤ ہوتا ہے اور یہ آزمائش اس طرح آہستہ آہستہ ہوتی ہے کہ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کسی آزمائش میں پڑ چکا ہے۔ یہاں بتایا یہ گیا ہے کہ بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ لیکن مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جو ساری کی ساری اور سب انسانوں کے لئے آزمائش کا سبب بن جاتی ہیں۔ اور ان چیزوں سے اللہ آزمائش اس طرح کرتا ہے کہ کون ان فانی اور زائل ہونے والی چیزوں میں پھنس کر آخرت کی دائمی نعمتوں کو فراموش کر دیتا ہے اور کون انہی چیزوں کو اپنے لئے آخرت میں ذخیرہ کا ذریعہ بناتا ہے اور وہاں کے اجر عظیم کو دنیا کی دلفریبیوں پر ترجیح دیتا ہے۔