ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التغابن (64) — آیت 1

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ لَہُ الۡمُلۡکُ وَ لَہُ الۡحَمۡدُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱﴾
اللہ کا پاک ہونا بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ En
جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لامتناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
En
(تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وه ہر ہر چیز پر قادر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

[1] آسمانوں اور زمین میں جو بھی مخلوق موجود ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی بادشاہی [2] ہے اور اسی کے لیے تمام تر تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
[1] اس بات میں مفسرین میں خاصا اختلاف ہے۔ اکثر اسے مدنی سورت قرار دیتے ہیں۔ اور بعض مکی کہتے ہیں۔ اس سورۃ کے ابتدائی مضامین مکی سورتوں سے پوری مشابہت رکھتے ہیں۔ اس اختلاف میں بہتر صورت یہی معلوم ہوتی ہے کہ آیت نمبر 14 سے 18 تک کی پانچ آخری آیات تو مدنی ہیں اور ابتدائی 13 آیات مکی ہیں۔
[2] یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا تو پھر اس سے بے تعلق نہیں ہو گیا۔ جیسا کہ قدیم فلاسفہ کا نظریہ تھا۔ بلکہ ہر آن اس پر حکومت بھی کر رہا ہے۔ اور جس چیز کی تخلیق سے جو مقصد درکار تھا اسے اس کام پر لگا دیا ہے اور اس سے مطلوبہ مقصد حاصل کرنے کی وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔