وہ کہتے ہیں یقینا اگر ہم مدینہ واپس گئے توجو زیادہ عزت والا ہے وہ اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورایمان والوںکے لیے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔
En
کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے
یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت واﻻ وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا۔ سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں
En
8۔ کہتے ہیں: اگر ہم مدینہ واپس گئے تو (وہاں کا) عزیز تر آدمی، ذلیل تر آدمی کو نکال باہر [13] کرے گا حالانکہ تمام تر عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے لیکن منافق یہ بات جانتے نہیں۔
[13] عبد اللہ بن ابی کو جھوٹ بولنے کی کیا سزا ملی؟
جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے جرائم سے انکار کرنے کی سزا اس منافق کو ایک تو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کے نفاق اور کذب کا بھانڈا پھوڑ دیا اور اسے رسوا کیا۔ اور دوسری سزا یہ ملی کہ خود اس کا بیٹا عبد اللہ جو سچا مومن تھا۔ مدینہ کے دروازہ پر تلوار سونت کر کھڑا ہو گیا۔ اور اپنے باپ کی راہ روک کر کہنے لگا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں تم مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتے کیونکہ معزز ترین تو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ذلیل ترین تم ہو۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے جہاں بیٹا باپ کا راستہ روکے کھڑا تھا، آپ نے از راہ کرم عبد اللہ بن ابی کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ تب جا کر بیٹے نے باپ کا راستہ چھوڑا۔ اس وقت اس منافق کو یہ بات معلوم ہوئی جسے وہ نہیں جانتا تھا کہ تمام تر عزت تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے لیے ہے اور ان کے مقابلہ میں وہی ذلیل ترین آدمی ہے۔ جب سیدنا عمرؓ نے عبد اللہ بن ابی کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کی اجازت نہ دی اور اس کی وجہ محض شماتت اعداء تھی۔ ورنہ اس کے جرائم اس قابل تھے کہ اسے قتل کر کے اس مجسم فتنہ سے زمین کو پاک کر دیا جاتا اور صحابہ میں ایسی چہ میگوئیاں ہونے بھی لگیں تو عبد اللہ بن ابی کے بیٹے سیدنا عبد اللہؓ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ میرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو مجھے حکم فرمائیے میں اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔ اگر اسے کسی اور نے قتل کیا تو مبادا میری رگ حمیت بھڑک اٹھے“ [ابن هشام، 12: 290 تا 292]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔