ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المنافقون (63) — آیت 7

ہُمُ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰی مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنۡفَضُّوۡا ؕ وَ لِلّٰہِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۷﴾
یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے ۔ En
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے
En
یہی وه ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وه ادھر ادھر ہو جائیں اور آسمان وزمین کے کل خزانے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں [12] پر خرچ نہ کرو تا آنکہ وہ تتر بتر ہو جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے تو اللہ کے پاس ہیں مگر منافق لوگ سمجھتے نہیں۔
[12] ہجرت سے پہلے مدینہ میں عبد اللہ بن ابی کی حیثیت :۔
آیت نمبر 7 اور 8 کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ان کا تاریخی پس منظر سمجھنا ضروری ہے جو یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ان کی آمد سے پہلے مدینہ کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج اسے اپنا بادشاہ تسلیم کرنے پر تیار ہو چکے تھے اور اس کے لیے سنہری تاج بھی تیار کرالیا گیا تھا۔ وہ خود قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا۔ اوس اور خزرج اپنی باہمی جنگوں سے بہت تنگ آئے ہوئے تھے اور غالباً عبد اللہ بن ابی ہی وہ پہلا شخص تھا جس کی سربراہی کو دونوں قبائل نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس کی رسم تاجپوشی ادا ہونے ہی والی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے آئے اور جب تمام لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو گئے تو عبد اللہ بن ابی کا سارا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا اور جو لوگ عبد اللہ بن ابی کی بادشاہت کے دوران بڑے بڑے مناصب کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ عبد اللہ بن ابی کے اور ان کے اسلام لانے کے بعد بھی وہ لوگ اس کے دمساز و ہمراز رہے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام تو لے آئے مگر بادشاہت اور مناصب کے چھن جانے کی وجہ سے عداوت کی چنگاری ان کے دلوں میں برقرار رہی۔
عبد اللہ بن ابی کے اسلام لانے کی وجوہ :۔
عبد اللہ بن ابی کے ان حالات میں اسلام لانے کی مجبوریاں تین تھیں ایک یہ کہ بدر کی فتح نے عرب بھر میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی تھی۔ عبد اللہ بن ابی بھی ایسے موقع شناس لوگوں میں سے تھا۔ جو چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ مدینہ میں اگرچہ یہود و مشرکین بھی آباد تھے مگر بااثر مسلمان ہی تھے تیسرے یہ کہ عبد اللہ بن ابی کا اپنا بیٹا، اس کا نام بھی عبد اللہ ہی تھا، مسلمان ہو چکا تھا اور وہ سچا مسلمان تھا۔ اسلام لانے کے باوجود ان لوگوں کے دلوں میں عداوت کی چنگاری انہیں ہر موقع پر اسلام کے خلاف مشتعل کرتی رہی۔ جنگ بدر سے پیشتر مشرکین مکہ نے عبد اللہ بن ابی کو ہی اپنا ساتھی سمجھ کر یہ پیغام بھیجا تھا کہ ”تم لوگوں نے ہمارے صاحب کو پناہ دے رکھی ہے۔ واللہ! یا تو تم اس سے لڑائی کرو اور اسے نکال باہر کرو، ورنہ ہم پوری جمعیت کے ساتھ تم لوگوں پر حملہ کر کے مردوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کی حرمت پامال کر ڈالیں گے“ [ابوداؤد۔ كتاب الجهاد۔ باب خبر النضير]
یہ خط دراصل عبد اللہ بن ابی کے دل کی آواز تھا۔ اس خط سے اسے بڑا سہارا مل گیا اور اس نے اپنے رفقاء کو اپنے پاس اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان حالات کی اطلاع ہوئی تو آپ اس کے ہاں خود تشریف لائے اور فرمایا کیا تم اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے خود ہی لڑو گے؟ عبد اللہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اس کے اپنے بہت سے قریبی رشتہ دار مسلمان ہیں لہٰذا اس کی کامیابی ناممکن ہے لہٰذا وہ لہو کے گھونٹ پی کے رہ گیا اور اس کے ساتھی بھی بکھر گئے۔ جنگ بدر کے دوران یہود اور عبد اللہ بن ابی کی پارٹی نے مسلمانوں کی شکست کی غلط سلط خبریں پھیلا کر مدینہ کی فضا کو خاصا سنسنی خیز بنا دیا تھا۔ پھر جب مسلمانوں کی شاندار فتح کی خبر آگئی۔ تو ان لوگوں کے قلب و جگر چھلنی ہو گئے۔ جنگ احد میں عین وقت پر جس طرح عبد اللہ بن ابی نے غداری کی اس کا حال پہلے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 121 کے حواشی میں گزر چکا ہے۔
اسلام لانے کے بعد عبد اللہ بن ابی کا مسلمانوں سے منافقانہ رویہ :۔
جب یہود بنو قینقاع کو قید کر لیا گیا۔ تو عبد اللہ بن ابی نے پر زور سفارش کر کے انہیں آزادی دلائی اور وہ جلا وطن کئے گئے۔ جنگ بنو نضیر میں اس نے جس طرح یہودیوں کے حوصلے بڑھائے اس کا حال سورۃ حشر میں گزر چکا ہے اور جنگ احزاب میں منافقوں نے جس عدم تعاون کا مظاہرہ کیا اور جس طرح مسلمانوں کو ہی طعنے دینے شروع کئے تھے اس کا حال سورۃ احزاب میں گزر چکا ہے۔ گویا عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہر وقت ایسے موقع کی تلاش میں رہتے اور اپنی منافقانہ سرگرمیاں دکھاتے تھے جن سے اسلام و مسلمانوں کو زک پہنچے۔ مسلمان مدینہ سے نکل جائیں یا ان کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے تاکہ عبد اللہ بن ابی کو اپنی کھوئی ہوئی بادشاہت پھر سے نصیب ہو جائے۔
غزوہ بنی مصطلق میں مہاجرین و انصار میں لڑائی اور عبد اللہ بن ابی کا انصار کو بھڑکانا :۔
غزوہ بنی مصطلق جنگی لحاظ سے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ تاہم اس غزوہ میں دو واقعات ایسے پیش آئے۔ جنہوں نے اس غزوہ کو مشہور بنا دیا ہے۔ اور یہ دونوں واقعات منافقوں اور بالخصوص عبد اللہ بن ابی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں واقعات نہیں بلکہ فتنے تھے۔ جنہیں برپا کرنے والا یہی عبد اللہ تھا۔ ایک تو واقعہ افک ہے۔ جو واپسی کے دوران پیش آیا تھا اور اس کا تفصیلی ذکر سورۃ نور میں گزر چکا ہے۔ دوسرا واقعہ اسی مقام پر ہوا جہاں مسلمانوں نے اس مشرک قبیلے کو شکست دی تھی۔ اور شکست دینے کے بعد چند دن آرام کے لیے رک گئے تھے۔ وہاں ایک کنوئیں پر پانی لینے کے سلسلہ میں سیدنا عمرؓ کے خادم جہجاہ بن قیس اور ایک انصاری کے درمیان کچھ تو تو، میں میں ہونے لگی۔ یہ واقعہ بخاری میں ان الفاظ میں مذکور ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری فرماتے ہیں کہ ہم ایک لڑائی پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ایک مہاجر (جہجاہ بن قیس) نے ایک انصاری (سنان بن وبرہ جہنی) کو ایک لات جمائی (جو اس کے سرین پر لگی) انصاری نے فریاد کی: اے انصار! دوڑو۔ اور مہاجر نے فریاد کی: اے مہاجرین دوڑو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آوازیں سنیں تو وہاں پہنچ کر فرمایا: ”یہ کیا دور جاہلیت کی سی باتیں کرنے لگے ہو؟“ وہ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کے لات ماری تھی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی باتیں چھوڑ دو۔ یہ گندی باتیں ہیں“ [بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب ماینھی من دعوۃ الجاھلیۃ۔ مسلم۔ کتاب البروالصلۃ۔ باب نصر الاخ ظالما او مظلوما]
جب عبد اللہ بن ابی نے یہ بات سنی تو (انصار سے) کہنے لگا: ”یہ سب کچھ تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔ اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت والا سردار ذلت والے کو وہاں سے باہر نکال دے گا“ جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو سیدنا عمرؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس منافق کی گردن اڑانے کی اجازت دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔ لوگ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے لگے ہیں“ مہاجر لوگ جب ہجرت کر کے مدینہ آئے اس وقت تھوڑے سے تھے اور انصار بہت تھے۔ مگر بعد میں مہاجرین بھی بہت ہو گئے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
عبد اللہ بن ابی کی بکواس اور بعد میں قسم اٹھا کر انکار کرنا :۔
سیدنا زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لڑائی (غزوہ تبوک) میں عبد اللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا: اے انصار! پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو لوگ (مہاجرین) ہیں ان کو خرچ کے لیے کچھ نہ دو۔ وہ خود ہی پیغمبر کو چھوڑ کر تتر بتر ہو جائیں گے۔ اور اگر ہم اس لڑائی سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت والا (یعنی وہ خود) ذلت والے (یعنی پیغمبر) کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے عبد اللہ بن ابی کی یہ گفتگو اپنے چچا (سعد بن عبادہ) یا سیدنا عمرؓ سے بیان کی اور انہوں نے آپ کو یہ بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا تو وہ قسمیں کھانے لگے کہ ہم نے ایسا نہیں کہا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا سمجھا اور اسے سچا سمجھا۔ مجھے اس بات کا اتنا دکھ ہوا جتنا کبھی کسی اور بات سے نہ ہوا تھا۔ میں گھر میں بیٹھ رہا۔ مجھے میرے چچا نے کہا: ارے تو نے یہ کیا کیا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جھوٹا سمجھا اور تجھ سے ناراض ہوئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ﴿اِذَا جَاءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ تا آخر۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا۔ سورۃ منافقون پڑھ کر سنائی اور فرمایا: ”زید! تجھے اللہ نے سچا کیا“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اس موقعہ پر عبد اللہ بن ابی نے انصار کو خوب اشتعال دلایا۔ کہنے لگا کہ: ”یہ مہاجر لوگ ہمارے علاقہ میں آ کر ہمارے ہی حریف بن گئے ہیں۔ ان پر تو یہ مثال صادق آتی ہے کہ کتے کو پال کر موٹا تازہ کرو تاکہ وہ تمہیں ہی پھاڑ کھائے۔ بخدا مدینہ واپس جا کر ہم میں معزز ترین آدمی (یعنی عبد اللہ بن ابی) وہاں کے ذلیل ترین آدمی (یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال باہر کرے گا۔“ پھر کہنے لگا کہ یہ مصیبت تمہاری اپنی ہی پیدا کردہ ہے۔ تم نے انہیں اپنے شہر میں اتارا، اپنے اموال بانٹ دیئے اور یہ دلیر ہو گئے۔ اب بھی اس کا یہی علاج ہے کہ ان لوگوں کو دینا بند کر دو۔ یہ خود ہی یہاں سے چلتے بنیں گے۔