ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المنافقون (63) — آیت 2

اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲﴾
انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا۔ یقینا یہ لوگ جو کچھ کرتے رہے ہیں برا ہے۔ En
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں
En
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اللہ کی راه سے رک گئے بیشک برا ہے وه کام جو یہ کر رہے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال [2] بنا رکھا ہے اور (اس طرح) اللہ کی راہ [3] سے روکتے ہیں بہت برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں
[2] یعنی قسموں سے وہ کام لیتے ہیں وہ جو ڈھال سے لیا جاتا ہے۔ وہ قسموں کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنے ایمان کا یقین دلا کر اپنا جان و مال محفوظ کر لیتے تھے۔ نیز جب ان کی کوئی ناشائستہ حرکت یا سازش پکڑی جاتی ہے۔ تو جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ کیونکہ اسلام کا قانون یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری افعال پر ہی گرفت کرتا ہے۔
[3] ﴿صَدَّ کا لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے خود تو ان منافقوں کا اسلام سے رکنا واضح ہے جو لوگ اسلام لانا چاہیں ان کے دلوں میں کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر کے ان کے اسلام لانے میں سدّراہ بن جاتے ہیں اور وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب یہ پہلے سے اسلام میں داخل ہونے والے لوگ بھی مطمئن نہیں تو ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔