ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجمعة (62) — آیت 9

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔ En
مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور (خریدو) فروخت ترک کردو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
En
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اے ایمان والو! جمعہ کے دن جب نماز کے لیے اذان دی جائے تو ذکر الٰہی کی طرف [14] دوڑ کر آؤ اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ اگر تم جانو تو یہی بات تمہارے لیے بہتر ہے۔
[14] سنت کے واجب الاتباع ہونے پر دلیل :۔
انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول سے پیشتر اذان اور جمعہ دونوں چیزوں سے خوب متعارف تھے۔ انہیں ہدایت صرف یہ دی جا رہی ہے کہ جب جمعہ کے لیے اذان ہو جائے تو خرید و فروخت اور دوسرے دنیوی مشاغل سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً جمعہ کا خطبہ سننے اور نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں پہنچ جاؤ۔ حالانکہ قرآن میں نہ کہیں اذان کے کلمات کا ذکر ہے اور نہ نماز جمعہ کی ترکیب کا۔ یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ہیں۔ جن کی قرآن سے توثیق کر دی گئی ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ جس طرح قرآن کے احکام واجب الاتباع ہیں اسی طرح رسول اللہ کے احکام بھی واجب الاتباع ہیں اور جو شخص صرف قرآن کو واجب الاتباع سمجھتا ہے وہ دراصل قرآن کا بھی منکر ہے۔ اذان کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اس کے کلمات اور مسائل و فضائل کیا ہیں؟ اس کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
اذان سے متعلق احادیث اور مسائل :۔
1۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو نماز کے لیے یوں ہی جمع ہو جایا کرتے۔ ایک وقت ٹھیرا لیتے نماز کے لیے اذان نہیں ہوتی تھی۔ ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی تو بعض کہنے لگے نصاریٰ کی طرح ایک گھڑیال بنا لو اور بعض کہنے لگے یہود کی طرح ایک بگل بنالو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک آدمی کیوں نہیں مقرر کر لیتے جو نماز کے لیے ندا کر دیا کرے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی رائے کو پسند کرتے ہوئے) بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال اٹھو اور نماز کے لیے اذان کہو۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب بدء الاذان]
2۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا گیا کہ اذان کے الفاظ دو دو بار اور تکبیر کے الفاظ ایک ایک بار کہیں۔ بجز قد قامت الصلوۃ کے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الاذان مثنیٰ مثنیٰ]
3۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے۔ آپ صبح ہونے تک ہمیں چڑھائی کرنے سے روکے رکھتے۔ پھر اگر وہاں (صبح کی) اذان سن لیتے تو ان پر حملہ نہ کرتے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو پھر حملہ کرتے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب ما یحقن بالاذان من الدماء]
4ـ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو جو کچھ مؤذن کہے وہی کچھ تم بھی کہتے جاؤ“ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب مایقول اذا سمع المنادی]
البتہ جب وہ حی علی الصلٰوۃ کہے تو لاحول ولا قوۃ الا باللّٰه کہے۔
5۔ جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان سننے کے بعد جو شخص یہ دعا کرے: ﴿اللٰهم ربَّ هذه الدعوةِ التامة والصلٰوة القائمة اٰتِ محمد نالوسيلةَ والفضيلةَ وابعثه مقامًا محمودَنِ الذى وعدتَه قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق ہو گا۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الدعاء عندالنداء]
6۔ عبد اللہ بن حارث بصری کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے ہم کو (جمعہ کا) خطبہ سنایا۔ اس دن کیچڑ تھی۔ جب مؤذن حی علیٰ الصلوۃ کہنے کو تھا تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ یوں پکارے الصلوٰۃ فی الرحال (اپنے اپنے ٹھکانوں پر ہی نماز پڑھ لو) یہ سن کو لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ کام تو اس ہستی نے کیا جو مجھ سے بہتر تھے اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الکلام فی الاذان]
7۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ تو رات رہے سے (سحری کی) اذان دیتا ہے اور جب تک ام مکتوم کا بیٹا اذان نہ دے۔ تم لوگ کھاتے پیتے رہو“ اور ام مکتوم کے بیٹے (عبد اللہ) اندھے تھے۔ وہ اس وقت تک اذان نہ دیتے جب تک لوگ یہ نہ کہتے کہ صبح ہو گئی، صبح ہو گئی۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب اذان الاعمٰی۔۔]
8۔ ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا اور میں بھی (ان کی طرح) اذان میں ادھر ادھر منہ پھیرنے لگا۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب ھل یتبع الموذن فاہ]
نماز جمعہ سے متعلق احادیث اور مسائل :۔
آپ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو نماز جمعہ کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اب جمعہ کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر جوان پر غسل واجب ہے اور مسواک کرنا اور اگر میسر ہو تو خوشبو بھی لگانا۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الطیب للجمعۃ]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے جمعہ کی نماز کے لیے آئے تو غسل کرے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب فضل الغسل یوم الجمعۃ]
ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ:
1۔ جمعہ فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں۔ نہ یہ بچوں پر فرض ہے نہ بوڑھوں پر، نہ عورتوں پر نہ مسافروں یا مریضوں پر نیز بارش کے دن کسی پر بھی فرض نہیں جیسا کہ اذان سے متعلق حدیث نمبر 6 سے بھی واضح ہوتا ہے۔
2۔ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ واجب ہے وہ غسل کر کے نماز کے لیے جائے جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے۔ تاہم بعض علماء نے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو وجوب کے لیے نہیں استحباب کے معنوں میں لیا ہے اور ان کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ لوگ دور دور سے اور بلند مقامات سے آتے۔ انہوں نے اون کی عبائیں پہنی ہوتیں اور گرد و غبار اور پسینہ کی وجہ سے ان سے بو آتی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہا کر آنے کا حکم دیا تھا۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اور جب ایسی صورت نہ ہو تو نہا کر آنا واجب نہیں۔ البتہ مستحب ضرور ہے۔
3۔ مسواک کرنا اور خوشبو لگانا سنت اور مستحب ہے واجب نہیں۔
4۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب وقت الجمعۃ۔۔]
5۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہو جاتی ہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ ہر پیشہ (اور شغل) حرام ہو جاتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب المشی الی الجمعۃ]
6۔ سیدنا سائب بن یزید کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جمعہ کے دن ایک ہی اذان ہوا کرتی۔ جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مدینہ کی آبادی بہت بڑھ گئی تو انہوں نے زوراء (مدینہ کے بازار میں ایک مقام کا نام) پر تیسری اذان (یعنی اقامت سمیت) بڑھائی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الاذان یوم الجمعۃ]
7۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) دو خطبے پڑھتے اور ان کے درمیان بیٹھتے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ]
8۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس وقت آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھی؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھ دو رکعتیں (ہلکی پھلکی) پڑھ لے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب من جاء والامام یخطب صلٰی رکعتین خفیفتین]
9۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہ پڑھتے۔ جب اپنے گھر لوٹ کر آتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الصلٰوۃ بعد الجمعۃ و قبلہا]
10۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن یوں کہے: ”چپ رہ“ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو حرکت کی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعۃ۔ باب الانصات یوم الجمعۃ۔۔]
11۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے بعد پہلا جمعہ جو ہوا وہ عبد القیس کی مسجد میں ہوا جو بحرین میں جواثیٰ (جگہ کا نام) میں تھی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن]
اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ ہر گاؤں میں ادا کرنا چاہیے۔ شہر ہونا کوئی شرط نہیں۔
12۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والوں کے باری باری نام لکھتے ہیں۔ جو پہلے آتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر دوسرے کی جیسے گائے کی قربانی کرے پھر تیسرے کی جو مینڈھا، پھر چوتھے کی جو مرغی، پھر پانچویں کی جو انڈا قربانی دے۔ پھر جب امام (خطبہ کے لئے) نکلتا ہے تو فرشتے اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے لگ جاتے ہیں۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الاستماع الی الخطبۃ]
13۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سے سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی جمعہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن نکالے گئے۔ اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی“ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
خلاف سنت امور :۔
اب ہم چند ایسی خلاف سنت باتوں کا ذکر کرتے ہیں جو آج کل ہم اپنے معاشرہ میں اور بالخصوص ہمارے علماء میں پائی جاتی ہیں:
1۔ ان میں پہلی چیز جمعہ کے وقت میں تاخیر ہے۔ چنانچہ ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم جمعہ کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کر کے واپس لوٹتے تھے تو ہم دیواروں کا سایہ نہ پاتے تھے جس کی آڑ میں آئیں۔ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق زوال آفتاب شروع ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ ادا کر لیا کرتے تھے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
نماز جمعہ کی ادائیگی میں تاخیر :۔
ان دونوں احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ زوال آفتاب تک دے کر فارغ ہو جایا کرتے تھے مگر ہمارے ہاں یہ رواج بڑھ چکا ہے کہ جمعہ کا خطبہ بھی زوال آفتاب سے کافی دیر بعد شروع ہوتا ہے اور بعض مساجد کا تو یہ حال ہے کہ ان کے جمعہ ختم ہونے تک عصر کا اول وقت آجاتا ہے۔
سنتوں کے لئے وقفہ :۔
2۔ بعض مساجد بالخصوص احناف کی مساجد میں پہلے خطبہ کے بعد نماز جمعہ کی سنتوں کے لیے وقفہ دیا جاتا ہے۔ یہ بات واضح طور پر سنت کے خلاف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دیر سے آنے والے کو خطبہ کے دوران ہی دو ہلکی رکعات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ لہٰذا خطبہ کے بعد سنتوں کے لیے وقفہ دینے کا کوئی جواز نہیں۔
خطبہ کو لمبا اور نماز کو مختصر کرنا :۔
3۔ تیسری خلاف سنت بات خطبہ کو لمبا کرنا اور نماز کو مختصر کرنا ہے۔ چنانچہ واصل بن حیان کہتے ہیں کہ ابو وائل نے کہا کہ ہمیں عمار رضی اللہ عنہ نے نہایت جامع اور بلیغ خطبہ دیا۔ پھر جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا: اے ابو الیقظان! اگر آپ ذرا اس خطبہ کو لمبا کرتے تو بہت بہتر ہوتا۔ تب عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ آدمی کا نماز کو لمبا کرنا اور خطبہ کو مختصر کرنا اس کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے۔ سو تم نماز کو لمبا کیا کرو اور خطبہ کو چھوٹا۔ اور بعض بیان تو جادو ہوتا ہے“ (یعنی جامع اور مختصر بیان جادو کا سا اثر رکھتا ہے) [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اور جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی درمیانہ تھی اور خطبہ بھی درمیانہ۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جمعہ کی نماز کتنی لمبی ہوتی تھی تو اس کے متعلق ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں خلیفہ مقرر کیا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو آپ نے پہلی رکعت میں سورۃ جمعہ اور دوسری میں المنافقون پڑھی۔ پھر میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے وہی سورتیں پڑھیں جو سیدنا علی کوفہ میں پڑھتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ”میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہی سورتیں پڑھتے سنا ہے“ (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تقلید میں نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں، میں نے یہ سورتیں پڑھی ہیں) [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اور سیدنا لقمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدوں اور جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور ھل اتاک حدیث الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے اور جب جمعہ اور عید دونوں ایک دن میں ہوتیں تب بھی انہیں دونوں سورتوں کو دونوں نمازوں میں پڑھتے تھے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
یہ تو آپ کی درمیانہ درجہ کی نماز کا حال تھا اور آپ کے خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی خطبہ بیس منٹ سے زیادہ لمبا کبھی نہیں ہوا۔ گویا سنت طریقہ یہ ہے کہ خطبہ پر زیادہ سے زیادہ بیس منٹ اور دو رکعت نماز پر کم از کم دس منٹ صرف ہوں۔ اب اس کے مقابلہ میں موجودہ صورت حال پر غور فرما لیجیے اہلحدیثوں کی مساجد میں، جو ہر ہر بات میں کتاب و سنت کے متبع ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں، کوئی ہی مسجد ایسی ہو گی جہاں خطبہ کا وقت نصف گھنٹہ ہو۔ ورنہ پون گھنٹہ بلکہ اکثر مساجد میں ایک گھنٹہ خطبہ کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے اور احناف اور بالخصوص بریلوی علماء تو ڈیڑھ گھنٹہ بلکہ اس سے بھی زیادہ وقت خطبہ میں صرف کر دیتے ہیں۔ یہ بات صریحاً خلاف سنت ہے۔ علماء حضرات اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں عربی کے علاوہ مقامی زبان یا اردو میں بھی اس کی تشریح کرنا پڑتی ہے اگر اس کا لحاظ رکھا جائے تو بھی آدھ گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ پون گھنٹہ بہت کافی ہے۔ کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ مختصر وقت میں بھی بہت سی کام کی باتیں کہی جا سکتی ہیں۔ پھر جب خطیب حضرات خطبہ میں کافی دیر لگا دیتے ہیں تو اس کی کسر جمعہ میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھنے سے نکالتے ہیں۔ حتیٰ کہ میں نے خود ایک ایسے ہی خطیب کو نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ الفیل اور دوسری میں سورۃ القریش پڑھتے سنا ہے۔ گویا خطبہ اور نماز دونوں ہی خلاف سنت ہوئے۔ خطبہ انتہائی لمبا اور نماز انتہائی مختصر۔ اب اس تطویل خطبہ کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ آتے ہی اس وقت ہیں جب نماز جمعہ کا وقت قریب ہو۔ پھر خطیب حضرات ان دیر سے آنے والوں کو وہ حدیث سنانے لگتے ہیں کہ جو شخص خطبہ جمعہ سننے کے لیے خطبہ شروع ہونے سے پیشتر سب سے پہلے آئے اس کو ایک اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور دوسرے نمبر پر آنے والے کو۔۔ الحدیث۔ گویا انہیں اپنے خلاف سنت کام کا تو احساس تک نہیں ہو گا۔ اور اس کے نتیجہ میں دیر سے پہنچنے والوں کو حدیث سنا کر کو سنے لگتے ہیں۔ اس تطویل خطبہ کی وجہ جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ خطیب حضرات کی اصل آرزو یہ ہوتی ہے کہ ان کی تقریر کو زیادہ سے زیادہ لوگ سنیں اور اسے سراہا اور پسند کیا جائے۔ لہٰذا وہ مزید لوگوں کی انتظار میں دیر کرتے جاتے ہیں۔ اور جمعہ پڑھنے والوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ابھی مولوی خطبہ میں بہت دیر لگائے گا۔ لہٰذا نماز سے ذرا پہلے چلے جائیں گے۔ اس دوہرے عمل سے خطبہ تو خوب لمبا ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی کسر نماز سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انداز خطاب اور موضوع خطاب :۔
4۔ چوتھی خلاف سنت بات انداز خطاب اور موضوع خطاب ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ جب خطبہ پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں اور آواز بلند ہو جاتی اور غصہ زیادہ ہو جاتا۔ گویا وہ ایک ایسے لشکر سے ڈرانے والے تھے جو بس صبح و شام ہی تم پر پہنچنے والا ہے اور فرماتے کہ میں اس وقت بھیجا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں پھر آپ اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا دیتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی حمد کے بعد فرماتے کہ ”ہر بات سے بہتر اللہ کی کتاب ہے اور ہر طریقہ سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق ہے اور نئے نئے کام نکالنا سب سے برا کام ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر فرماتے میں ہر مومن کا اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں۔ جو شخص مال چھوڑ جائے وہ تو اس کے گھر والوں کا ہے اور جو قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس قرض کی ادائیگی یا بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے“ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
نیز ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔ دو برس یا ایک برس اور کچھ ماہ تک (یعنی اتنی مدت ہم ان کی ہمسائیگی میں رہے) اس دوران میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبان سے سورۃ ق سیکھی تھی۔ آپ اس کو ہر جمعہ میں منبر پر پڑھتے تھے جب لوگوں کو خطبہ سناتے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
ان دو احادیث سے مندرجہ ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے:
1۔ آپ کا خطاب یا تقریر جوشیلی ہوتی تھی۔ راگ اور سر تال والی نہیں ہوتی تھی جبکہ آج کل خطیب حضرات اپنی پوری کوشش سے راگ اور سر والا لہجہ سیکھتے ہیں۔ وہ قرآنی آیات کے علاوہ اپنی باتوں کو بھی اس طرح سریلی آواز میں پیش کرتے ہیں سامعین جھومنے اور سبحان اللہ، سبحان اللہ کے نعرے لگانے لگیں۔ اور جتنے زیادہ ایسے نعرے لگیں اتنے ہی خطیب حضرات اسے اپنی تقریر کی پذیرائی سمجھ کر پھولے نہیں سماتے۔ اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی تقریر کے دوران ایسے نعرے لگتے رہیں۔
2۔ خطاب کے دوران آپ کا موضوع ایک نہیں بلکہ متفرق ہوتے تھے۔ گویا آپ کا انداز خطاب تقریر کا نہیں بلکہ وعظ و نصیحت کا ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ اور سنت رسول سے تمسک کی تاکید فرماتے اور بدعات سے اجتناب کا حکم دیتے اور اس کے انجام سے ڈراتے تھے اور سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرماتے تھے اور یہی خطبہ مسنونہ کے موضوع ہیں۔ خطبہ جمعہ کا موضوع دراصل ’ذکر اللّٰہ‘ ہے جیسے اس سورۃ میں فرمایا: ﴿فَاسْعَوْا اِلٰي ذِكْرِ اللّٰهِ اور ذکر اللہ سے مراد سارا قرآن ہے۔ تاہم حدیث نمبر 2 سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ خطبہ میں سورۃ ق پڑھنا زیادہ پسند فرماتے تھے۔ آپ سورۃ ق کو مد نظر رکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بعث الموت پر دلائل پیش کئے ہیں۔ آخرت کا انکار کرنے والی چند اقوام کا مختصراً انجام بتایا ہے۔ اور انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس کے اعمال کا ریکارڈ ساتھ ساتھ تیار کیا جا رہا ہے اور اس کے مطابق اس کا مؤاخذہ ہونے والا ہے۔ پھر کچھ جنت اور دوزخ کا ذکر ہے اور سورت کے آخر میں خلاصہ کے طور پر فرمایا کہ: ﴿فَذَكِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ اور حدیث نمبر 1 سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ کا اصل موضوع لوگوں کو ان کے اخروی انجام سے ڈرانا ہوتا تھا اور یہ بات آپ بڑے جوش و خروش سے بتایا کرتے تھے۔ اب دیکھئے ہمارے ہاں خطبات جمعہ میں وعظ و نصیحت اور انذار و تبشیر کا بیان تقریباً مفقود ہے۔ ہمارے ہاں عمومی رواج ایک موضوع پر تقریر کرنے کا ہے یہ بھی اس صورت میں تو درست ہے کہ جو کچھ بیان کیا جائے کتاب و سنت سے ہی اور اس کی حدود میں رہ کر بیان کیا جائے۔ مگر ہمارے ہاں تو خطبہ مسنونہ اور قرآن کی ایک آدھ آیت محض برکت کے لیے پڑھ لی جاتی ہے جسے عامۃ الناس سمجھتے ہی نہیں بعد میں اولیاء اللہ کی حکایات، ان کے تصرفات اور ان کی کرامات اس انداز سے بیان کی جاتی ہیں کہ اگر وہ خدا نہیں تو کم از کم اس سے کم درجہ کے بھی نہیں ہوتے مثلاً مولانا روم کا یہ شعر آپ نے خطبات جمعہ میں اکثر سنا ہو گا۔
اولیاء را ہست قدرت از الٰہ
تیر جستہ باز گرد انند زراہ
یعنی اولیاء کو اللہ کی طرف سے اس قدر قدرت حاصل ہوتی ہے کہ وہ چھوڑے ہوئے تیر کو راستہ سے ہی واپس لا سکتے ہیں۔ یہ واضح رہے کہ مشرکین مکہ بھی اپنے بتوں کے متعلق یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ ان کو جو تصرفات حاصل ہیں وہ اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ [مسلم۔ کتاب الحج۔ تلبیۃ المشرکین]
پھر ان کی محیر العقول اور مہیب قسم کی کرامات بیان کی جاتی ہیں جن پر عوام کی طرف سے سبحان اللہ کے نعرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کسی کو زیادہ جوش آجائے تو اجتماعی نعرے شروع ہو جاتے ہیں۔ پہلے نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور پھر نعرہ حیدری۔ اب سوال یہ ہے کہ صدر اول میں مساجد میں ایسے نعرے بازی ہوتی تھی؟ اور کیا یہ خالص بدعت نہیں؟
ہمارے پسندیدہ موضوع :۔
ہمارے خطیب حضرات کا دوسرا پسندیدہ موضوع اپنے اختلافی عقائد کی نشر و اشاعت اور ان کو فروغ بخشنا ہے۔ پھر ان عقائد کو سنجیدہ طریق پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ فریق مخالف کو طنزو مزاح، تضحیک اور طعن و ملامت کا ہدف بنا کر فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اور خطیب مخالف فریق پر جتنا زیادہ کیچڑ اچھالنا اور انہیں طعن و ملامت کرنا جانتا ہو اتنا ہی وہ اپنے لوگوں میں ہر دلعزیز اور کامیاب خطیب متصور ہوتا ہے۔ جس خطیب کو یہ فن آ گیا۔ بس اس کے وارے نیارے ہو گئے اسے جلسوں جلوسوں میں مدعو کیا جاتا اور گرانقدر نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔ عوام کا ذوق بھی کچھ ایسا بن جاتا ہے کہ وہ ایسے خطیب کو پسند کرتے ہیں۔ جو ایک تو گیت کے انداز میں سریلی آواز سے تقریر کر سکتا ہو دوسرے طعن و تشنیع میں اتنا فن کار ہو کہ فریق مخالف کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا کہ: ﴿اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ مگر یہ بات نہ ہمارے خطیب حضرات کو اچھی لگتی ہے اور نہ ہمارے عوام کو۔ کیا یہی چیز اللہ کا ذکر ہے جس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ: ﴿فَاسْعَوْا اِلٰي ذِكْرِ اللّٰهِ علاوہ ازیں فرقہ بازی اور بدعات کے فروغ میں لاؤڈ سپیکر نہایت کارگر ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ جب لاؤڈ سپیکر کی ایجاد معرض وجود میں آئی تو اس وقت علماء نے کہا تھا کہ اس میں سے شیطان بولتا ہے لہٰذا اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا مگر آج یہ صورت حال ہے کہ جونئی مسجد تعمیر ہوتی ہے اس کی چھت پڑنے سے پیشتر یہی لاؤڈ سپیکر کا اہتمام ضروری سمجھا جاتا ہے اور ہر فریق اس کا فائدہ یہی بتاتا ہے کہ اس سے کتاب و سنت کا پیغام لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جائے گا۔ مگر عملاً اس سے دوسرے فریق پر سنگ باری مقصود ہوتی ہے۔ اگر مخالف فریق کے لاؤڈ سپیکر کے ہارن دو ہوں تو یہ فریق چار ہارن لگوائے گا۔ اور اس کے چار ہارن ہو تو یہ چھ لگوائے گا۔ حالانکہ مسجد میں جمع ہونے والے لوگوں کے لیے سرے سے لاؤڈ سپیکر کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ پھر ہمارے خطیب اور علماء حضرات کا بھی مزاج کچھ ایسا بن چکا ہے کہ وہ لاؤڈ سپیکر کے بغیر تقریر کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ چنانچہ عام طور پر مشاہدہ میں آیا ہے کہ صرف گنتی کے چند نمازی سامنے بیٹھے ہیں اور خطیب صاحب لاؤڈ سپیکر کھول کر درس یا خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں لاؤڈ سپیکر کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی مگر اس بات کا کیا علاج کہ مولانا لاؤڈ سپیکر کے بغیر درس یا خطبہ ارشاد فرمانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس کا فائدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ آواز لوگوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ اور عملاً یہ ہوتا ہے کہ جب ہر طرف سے اور ہر مسجد سے لوگوں کے گھروں تک یہ آوازیں پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تو لوگ ایسے شور و غل اور سمع خراشی سے بیزار اور متنفر ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ تو محض اسی وجہ سے کسی مسجد کے قرب و جوار میں مکان بنانا پسند نہیں کرتے۔ پھر معاشرہ میں کچھ لوگ مریض بھی ہوتے ہیں جنہیں اس قسم کے شور و غل سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔
لاؤڈ سپیکر کے نقصانات :۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ لاؤڈ سپیکر بدعات اور بدعی عقائد و اعمال کے فروغ کے لیے ایک نہایت کامیاب ہتھیار ہے۔ مثلاً اذان سے پہلے درود شریف پڑھنے کی بدعت کو لاؤڈ سپیکر ہی کی وجہ سے فروغ حاصل ہوا ہے۔ اگر لاؤڈ سپیکر کو قانوناً بند کر دیا جائے تو یہ بدعت تھوڑی ہی مدت بعد از خود دم توڑ دے گی۔ کیونکہ اس کی اصل بنیاد ہے ہی نہیں جس پر یہ قائم رہ سکے۔ یہی حال دوسری بدعات کا ہے اور یہ بات بھی مشاہدہ میں آچکی ہے کہ جہاں فرقہ وارانہ تقریروں کی وجہ سے فسادات ہو رہے ہوں وہاں حکومت لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دیتی ہے۔ تو اس کے نتائج نہایت مفید برآمد ہوتے ہیں۔ اور وہاں فرقہ وارانہ فضا ماند پڑ جاتی ہے۔ گویا آج کے دور میں بدعات اور بدعی عقائد کا سب سے بڑا سہارا یہی لاؤڈ سپیکر ہے۔ اور ہمیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ علماء نے لاؤڈ سپیکر سے متعلق ابتداءً جو رائے قائم کی تھی کہ: ”اس میں شیطان بولتا ہے“ وہ بہت حد تک درست تھی۔ رہے وہ عقائد و اعمال جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں تو ان کے لیے لاؤڈ سپیکر کی قطعاً ضرورت نہیں۔ وہ اس کے بغیر بھی ہر دور میں زندہ و ثابت رہ سکتے ہیں کیونکہ وہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔
جمعہ کی غرض و غایت :۔
اب ذرا موضوع خطاب سے متعلقہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی پہلی حدیث کا آخری حصہ سامنے لائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ”میں ہر مومن کا اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں“ جس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی ایک اہم غرض مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی باہمی صلاح و فلاح ہے نہ کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا، سنگ باری کرنا اور فرقہ وارانہ فسادات کو پھیلا کر عوام الناس کو سرے سے اسلام ہی سے متنفر بنا دینا۔ اس کے بعد فرمایا کہ: ”جو شخص مال چھوڑ جائے وہ تو اس کے وارثوں کا ہے اور جو قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس قرض کی ادائیگی یا بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے“ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن مسلمانوں کے اس اجتماع کی ایک اہم غرض ان کی معاشی حالات کا جائزہ لینا اور محتاج اور ناتواں افراد کی کفالت اور مقروضوں کے قرض کی ادائیگی کا اہتمام کرنا بھی ہے۔ گویا جمعہ فرض تو اس غرض کے لیے کیا گیا تھا کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعداد میں اکٹھے ہو کر اللہ کا ذکر سنیں اس کی حمد و ثنا بیان کریں۔ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور باہمی اصلاح و فلاح کے امور پر غور کریں۔ اپنے معاشی حالات کا جائزہ لیں۔ محتاج اور یتیموں، بیواؤں اور ناداروں کی کفالت کا اہتمام کریں تاکہ ان میں محبت، مروت، ہمدردی، ایثار اور اخوت جیسے بلند پایہ اخلاق فروغ پائیں۔ لیکن ہمارے سامنے جمعہ کی ادائیگی کے اغراض ان سے یکسر مختلف ہوتے ہیں جنہیں ہم غیر شعوری طور پر اور عادتاً بجا لاتے ہیں۔