ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجمعة (62) — آیت 3

وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾
اور ان میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (آپ کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (ان کو بھیجا ہے) جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
En
اور دوسروں کے لیے بھی انہیں میں سے جو اب تک ان سے نہیں ملے۔ اور وہی غالب باحکمت ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور انہی کے کچھ دوسرے لوگوں (کی طرف بھی بھیجا) جو ابھی ان سے [6] نہیں ملے اور وہ زبردست [7] ہے حکمت والا ہے
[6] آپ تمام لوگوں کے لئے تا قیام قیامت رسول ہیں :۔
نبی آخر الزمان صرف ان امی اہل عرب ہی کی طرف مبعوث نہیں کیے گئے تھے بلکہ بعد میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے بھی نبی ہیں گویا آپ کی نبوت اور رسالت صرف اہل عرب کے لیے اور صرف اس دور کے لیے ہی نہیں تھی بلکہ اس دور کے اور بعد میں ت اقیامت آنے والے سب انسانوں کے لیے یکساں ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: جب سورۃ جمعہ نازل ہوئی تو ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ: ﴿وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ:”اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو ان لوگوں (فارس والوں) سے کئی لوگ وہاں تک پہنچ جاتے“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اہل فارس کی خدمت اسلام :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو بار اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس سے مراد کوئی خاص لوگ نہیں تھے۔ بلکہ اس سے مراد عامۃ الناس تھے۔ پھر جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تیسری بار بھی یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کا نام لیا کہ یہ لوگ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر دین اسلام کی خدمت کریں گے۔ چنانچہ عملاً ہوا بھی ایسا ہی، صحابہ کرام کے دور کے بعد اسلام کی نشر و اشاعت کا جتنا کام اہل فارس نے سرانجام دیا۔ دوسروں کے حصہ میں یہ سعادت نہ آسکی۔ بڑے بڑے محدثین اور فقہاء کی اکثریت اسی علاقہ سے تعلق رکھتی ہے۔
[7] اللہ تعالیٰ کے زبردست اور حکمت والا ہونے کی اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اس نے اپنا رسول بھیج کر بائیس تئیس سال کی مختصر مدت میں عرب بھر کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔ شرک کی جڑ کٹ گئی۔ اور خالصتاً اللہ کے پرستار پیدا ہو گئے۔ پہلے سب ایک دوسرے کے دشمن تھے اب بھائی بھائی بن کر شیر و شکر ہو گئے۔ پہلے بہت سے گناہوں اور اخلاقی امراض میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اب اخلاق فاضلہ کے بلند مقام پر فائز ہو گئے۔