اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں، کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشے سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
En
اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے اور خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس جو ہے وه کھیل اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے
En
11۔ اور جب انہوں نے کوئی سودا بکتا یا کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو ادھر بھاگ گئے اور آپ کو (اکیلا) کھڑا چھوڑ دیا [16]۔ آپ ان سے کہیے کہ: ”جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ ہی سب سے بہتر روزی رساں ہے“
[16] مدنی دور کی ابتدائی زندگی معاشی لحاظ سے بھی مسلمانوں کے لیے سخت پریشان کن تھی۔ مہاجرین کی آباد کاری کے علاوہ کفار مکہ نے بھی اہل مدینہ کی معاشی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ جس کی وجہ سے غلہ کم یاب بھی تھا اور گرانی بھی بہت تھی۔ انہی ایام میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ کہ ایک غلہ کا تجارتی قافلہ مدینہ آن پہنچا اور انہوں نے اپنی آمد کی اطلاع کے طور پر طبلے بجانا شروع کر دیئے۔ یہ خبر مژدہ جانفزا سے کم نہ تھی۔ چنانچہ خطبہ سننے والے مسلمان بھی، محض اس خیال سے کہ اگر دیر سے گئے تو سارا غلہ بک ہی نہ جائے، خطبہ چھوڑ کر ادھر چلے گئے اور آپ کے پاس صرف بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ رہا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب اذا نفرالناس عن الامام۔۔] جس میں مسلمانوں پر میٹھی زبان میں عتاب نازل ہوا کہ یہ قافلہ والے کوئی تمہارے رازق تو نہ تھے۔ رزق کے اسباب مہیا کرنے والا تو اللہ ہے۔ لہٰذا آئندہ تمہیں ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام کو خطبہ کھڑے ہو کر دینا چاہیے اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔ اس سلسلہ میں دو احادیث ملاحظہ فرمائیں: 1۔ جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کھڑے ہو کر دیتے۔ پھر بیٹھ جاتے۔ پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ جو تمہیں یہ بتائے کہ آپ نے خطبہ بیٹھ کر دیا اس نے جھوٹ بولا۔ [مسلم] 2۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے اور عبد الرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے۔ کعب نے فرمایا۔ اس خبیث کو دیکھو۔ یہ بیٹھ کر خطبہ دیتا ہے اور قرآن مجید میں ﴿وَاِذَارَاَوْاتِجَارَةًاَوْلَهْوَاانْفَضُّوْٓااِلَيْهَاوَتَرَكُوْكَقَايِٕمًا﴾ جب انہوں نے خرید و فروخت یا کھیل کے مشغلہ کو دیکھا تو اس طرف بھاگ نکلے اور تمہیں کھڑا ہوا چھوڑ گئے۔ [مسلم]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔