ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الصف (61) — آیت 7

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُوَ یُدۡعٰۤی اِلَی الۡاِسۡلَامِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷﴾
اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، جب کہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
اور اس سے ظالم کون کہ بلایا تو جائے اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
En
اس شخص سے زیاده ﻇالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ (افترا) باندھے حاﻻنکہ وه اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ ایسے ﻇالموں کو ہدایت نہیں کرتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو گا کہ اللہ پر جھوٹے بہتان [9] باندھے جبکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو۔ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
[9] نصاریٰ نے اللہ پر کیا کیا بہتان باندھے؟
اس سے مراد عیسائیوں کے وہ مختلف قسم کے بہتان ہیں جو انہوں نے اللہ پر لگا رکھے تھے۔ کبھی کہتے کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کا بیٹا ہے۔ کبھی کہتے کہ یہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے اور کبھی کہتے کہ عیسیٰ ہی اللہ ہے۔ اور اللہ عیسیٰ کے جسم میں حلول کر آیا ہے۔ ان کے علاوہ ان کی بہتان بازیاں یہ تھیں کہ اناجیل کی عبارتوں میں خود ہی اپنی حسب پسند اضافے بھی کر لیتے تھے اور جو چیزیں موجود تھیں ان کی تاویل یا انکار بھی کر دیتے تھے۔ اور ان سب باتوں سے بڑھ کر ظلم یہ کیا کہ جب نبی آخر الزمان نے انہیں اسلام لانے کی دعوت دی تو اپنے اختراع کردہ بہتانوں کو حقیقی بنیاد بنا کر بنائے فاسد علی الفاسد کے مصداق اس نبی کو جھٹلا دیا۔ جو لوگ اللہ پر افترا کرنے میں بھی اتنے جری اور دلیر ہو گئے ہوں انہیں ہدایت کیسے نصیب ہو سکتی ہے؟ اللہ کا یہ دستور نہیں کہ ایسے ظالموں کو زبردستی راہ ہدایت پر لے آئے۔