ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الانعام (6) — آیت 89

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ۚ فَاِنۡ یَّکۡفُرۡ بِہَا ہٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَکَّلۡنَا بِہَا قَوۡمًا لَّیۡسُوۡا بِہَا بِکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾
یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی، پھر اگر یہ لوگ ان باتوں کا انکار کریں تو ہم نے ان کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں جو کسی صورت ان کا انکار کرنے والے نہیں۔ En
یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں
En
یہ لوگ ایسے تھے کہ ہم نے ان کو کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی سو اگر یہ لوگ نبوت کا انکار کریں تو ہم نے اس کے لئے ایسے بہت سے لوگ مقرر کردیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب بھی دی، قوت فیصلہ بھی اور نبوت بھی۔ [89] اگر یہ کافر ان باتوں کا انکار کرتے ہیں (تو پروا نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کے سپرد [90] یہ خدمت کر دی ہے جو ان باتوں کے منکر نہیں
[89] انبیاء کو تین خبریں عطا کی جاتی ہیں:۔
مذکورہ انبیاء کو تین چیزیں عطا کرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک کتاب یعنی منزل من اللہ ہدایت نامہ دوسرے حکم سے مراد اللہ کی کتاب کا صحیح فہم، ان پر عمل کرنے کا طریق کار اور اس ہدایت کو عملی زندگی پر منطبق کرنے کی صورتیں اور مختلف نزاعات اور مقدمات میں صحیح قوت فیصلہ کی استعداد اور نبوت سے مراد اس ہدایت الٰہی کے مطابق لوگوں کی رہنمائی ہے۔
[90] اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو نہ لائیں۔ ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایسے بندے پیدا کر دیئے ہیں جو ہماری نعمتوں کے قدردان ہیں۔ حق کو تسلیم کرتے ہیں اور کسی ہدایت کی بات سے منہ نہیں موڑتے۔ ایسے ہی لوگ انبیاء کے حقیقی متبعین اور ان کے جانشین ہوتے ہیں۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین مہاجرین و انصار کی یہی صفات تھیں۔