85۔ اور زکریا [87]، یحییٰ،عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب لوگ صالح تھے
[87] شرک کو ختم کرنا سب سے بڑا جہاد ہے:۔
قرآن میں اکثر مقامات پر جب انبیائے کرام کا ذکر ہوا تو اس میں ترتیب زبانی بھی پائی جاتی ہے لیکن یہاں غالباً اس صفت کو زیادہ تر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ان میں سے کس نے شرک کے خلاف سب سے زیادہ جہاد کیا تھا یا بعض دوسری صفات کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو ان میں سے سر فہرست سیدنا ابراہیمؑ کا ہی ذکر کیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسی صفت کی بنا پر «امة قانة» فرمایا اور اپنا دوست بنایا۔ پھر سیدنا ابراہیمؑ پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے بیٹے اسحاقؑ اور پھر ان کے بیٹے یعقوبؑ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آئندہ کے لیے نبوت انہیں کی اولاد سے مختص کر دی، بعد ازاں سیدنا نوحؑ کا ذکر فرمایا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال کا طویل عرصہ شرک ہی کے خلاف جہاد میں گزارا تھا۔ حالانکہ ان کا زمانہ سیدنا ابراہیمؑ سے بہت پہلے کا ہے۔ ان پر انعام یہ ہوا کہ ان کے بعد نبوت آپ کی اولاد میں مختص ہو گئی تھی پھر اس کے بعد سیدنا داؤدؑ اور ان کے بیٹے سیدنا سلیمانؑ کا ذکر فرمایا۔ جنہیں نبوت کے علاوہ حکومت بھی عطا ہوئی تھی اور انہوں نے بزور شمشیر شرک کے زور کو توڑا تھا۔ پھر سیدنا ایوبؑ کا ذکر کیا جنہوں نے اس حق و باطل کی کشمکش میں کمال صبر کا مظاہرہ کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ﴿اِنَّاوَجَدْنٰهُصَابِرًا﴾ کا خطاب دیا اور سیدنا یوسفؑ کے صبر کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی آپ سات سال بے قصور قید میں پڑے رہے پھر جب شاہ مصر کی طرف سے بلاوا آیا تو آپؑ نے قاصد سے کہا کہ پہلے بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اتنی مدت قید میں پڑا ہوتا تو قاصد سے کچھ کہے بغیر ہی اس کے ساتھ ہو لیتا۔ [بخاري۔ كتاب الانبياء۔ باب لقد كان فى يوسف] اللہ نے انہیں بھی حکومت عطا فرمائی تھی اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ سب سے مکرم کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یوسف جو خود بھی نبی تھے۔ ان کا باپ بھی نبی، دادا بھی نبی اور پڑ دادا (سیدنا ابراہیمؑ) بھی نبی تھے۔“ اس کے بعد موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر فرمایا۔ موسیٰ کلیم اللہ تھے اور انہی کی درخواست پر سیدنا ہارونؑ کو نبوت ملی تھی تاکہ صدیوں سے بگڑے ہوئے بنی اسرائیل کو راہ راست پر لانے کے لیے ان کا ہاتھ بٹائیں۔ انہوں نے بھی ساری زندگی بنی اسرائیل کے ہاتھوں تکلیفیں ہی اٹھائیں۔ پھر ان کے بعد سیدنا زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے دو کو تو بنی اسرائیل نے دعوت حق دینے کی پاداش میں قتل کروا دیا تھا اور تیسرے سیدنا عیسیٰؑ کو صلیب پر لٹکوانے کی کوشش کی۔ پھر سیدنا الیاس، اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط علیہم السلام کا ذکر فرمایا پھر سب انبیاء کے متعلق ایک یکساں تبصرہ فرمایا۔ یہ سب لوگ صالح تھے اور اپنے اپنے وقت میں تمام اقوام عالم اور افراد سے افضل تھے اس لیے کہ انہوں نے شرک کے خلاف جہاد کیا اور توحید کا بول بالا کرنے کے لیے اور دعوت حق کی خاطر تکلیفیں اٹھائی تھیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔