64۔ آپ ان سے کہئے کہ: اللہ ہی تمہیں اس مصیبت سے اور ہر سختی سے نجات دیتا [71] ہے، پھر بھی تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو
[71] ایسے آڑے وقتوں میں مشرک کو اپنے سب دیوی دیوتا اور بزرگ بھول جاتے ہیں اور اللہ ہی یاد آتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے منکر اور دہریے بھی بے اختیار اللہ سے فریاد کرنے لگتے ہیں۔ لیکن جب یہ بلا سر سے ٹل جاتی ہے پھر انہیں اللہ سے اپنا کیا ہوا وعدہ یاد ہی نہیں رہتا اور ایسی کھلی علامت دیکھ لینے کے باوجود بعد میں وہ اللہ کے تصرف و اختیار میں ایسی ہستیوں کو شریک بنا لیتے ہیں جن کے لیے علمی دلیل یا ثبوت ان کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ [نيز ديكهئے اسي سورة كي آيت نمبر 46 كا حاشيه اور سورة يونس كا حاشيه نمبر 34]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔