کہہ کون تمھیں خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات دیتا ہے؟ تم اسے گڑ گڑا کر اور خفیہ طریقے سے پکارتے ہو کہ بے شک اگر وہ ہمیں اس سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر ادا کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
En
کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں
آپ کہئے کہ وه کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ﻇلمات سے نجات دیتا ہے۔ تم اس کو پکارتے ہو گڑگڑا کر چپکے چپکے، کہ اگر تو ہم کو ان سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے
En
63۔ آپ ان سے پوچھئے کہ: بحر و بر کی تاریکیوں میں پیش آنے والے خطرات سے تمہیں کون نجات دیتا ہے؟ جسے تم عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے پکارتے ہو کہ ”اگر اس نے ہمیں (اس مصیبت سے) نجات دے دی تو ہم [70] ضرور اس کے شکر گزار ہوں گے
[70] یعنی خواہ تم کسی سمندر کا سفر طے کر رہے ہو یا خشکی کے مقام پر ہو تو کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جس سے تمہیں موت سامنے کھڑی نظر آنے لگے تو اس بے بسی کے عالم میں کبھی تو تم بے اختیار ہو کر لاشعوری طور پر اللہ کو پکارنے لگتے ہو اور کبھی دل ہی دل میں گڑگڑا کر اللہ کے حضور فریاد کرنے لگتے ہو کہ آج اگر اللہ نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم ضرور اللہ کے فرمانبردار بن جائیں گے۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے جو ہر انسان کو اپنی زندگی میں متعدد بار پیش آتی رہتی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔