ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الانعام (6) — آیت 27

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَی النَّارِ فَقَالُوۡا یٰلَیۡتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۷﴾
اور کاش! تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش ! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔ En
کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں
En
اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں تو کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہم اپنے رب کی آیات کو جھوٹا نہ بتلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ کاش آپ وہ وقت دیکھ سکتے جب انہیں [31] دوزخ کے کنارے کھڑا کیا جائے گا تو کہیں گے: ”کاش ہم دوبارہ دنیا میں بھیجے جائیں تو اپنے پروردگار کی آیات کو کبھی نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہو جائیں“
[31] یعنی اس وقت تک ان ہٹ دھرموں کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں آئیں گے جب تک یہ دوزخ کے عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ اس وقت ان کی سب شیخیاں کر کری ہو جائیں گی۔ اس وقت وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش انہیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع میسر ہو تو ہم یقیناً اللہ کے فرمانبردار بندے بن کے رہیں گے۔