ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الانعام (6) — آیت 164

قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡ رَبًّا وَّ ہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ وَ لَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ اِلَّا عَلَیۡہَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ۚ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
کہہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے۔ اور کوئی جان کمائی نہیں کرتی مگر اپنے آپ پر اور نہ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ اٹھائے گی، پھر تمھارے رب ہی کی طرف تمھارا لوٹ کر جانا ہے، تو وہ تمھیں بتائے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ En
کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (برا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کا جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا
En
آپ فرما دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں حاﻻنکہ وه مالک ہے ہر چیز کا اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وه اسی پر رہتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے رب کے پاس جانا ہوگا۔ پھر وه تم کو جتلائے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

164۔ آپ ان سے کہئے: کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور پروردگار تلاش کروں حالانکہ وہ ہر چیز [187] کا رب ہے۔ اور جو شخص [188] بھی کوئی برا کام کرے گا تو اس کا بار اسی پر ہو گا، کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے پروردگار کے ہاں لوٹ کر جانا ہے اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو وہ سب [189] کچھ تمہیں بتا دے گا
[187] یعنی کائنات کی ہر چیز کا پروردگار تو اللہ ہے اور میں بھی کائنات کا ایک حصہ ہوں تو پھر میرا پروردگار کوئی دوسرا کیسے ہو سکتا ہے۔ کائنات کی ایک ایک چیز اللہ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق چل رہی ہے اور میں بھی اضطراری امور میں انہی مقر رہ قوانین کا پابند ہوں۔ پھر جن باتوں میں مجھے تھوڑا بہت اختیار دیا گیا ہے میں کیوں نہ ان اختیارات کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دوں اور پوری کائنات سے الگ الٹی روش کیوں اختیار کروں؟
[188] یہ نا ممکن ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی! مشرکین مکہ میں سے اکثر جو روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ایسی توحید کو چھوڑ کر ہماری طرف آ جاؤ، اگر قیامت آئی بھی تو پھر تمہارے اس گناہ کا بوجھ ہم اٹھا لیں گے جیسا کہ سورۃ عنکبوت کی آیت نمبر 12 میں ذکر ہوا ہے۔ اس آیت میں مشرکوں کے اسی قول کا جواب دیا گیا ہے کہ نا ممکن ہے کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا بکر بھگتے۔ ہر ایک سے اس کے اپنے اعمال کا محاسبہ ہو گا۔ پھر اسے ہی سزا دی جائے گی۔
[189] اس دن تم پر سب کچھ واضح ہو جائے گا کہ جن ہستیوں کو تم اللہ کا شریک سمجھ رہے تھے ان سے فریادیں کرتے اور مشکل کشائی کے لیے پکارتے تھے ان کی اللہ کے سامنے کیا حیثیت ہے اور جن اختلافات پر تم نے اپنے اپنے فرقوں کی بنیاد رکھی تھی سب کھل کر تمہارے سامنے آجائیں گے۔