ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الانعام (6) — آیت 131

ذٰلِکَ اَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ رَّبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾
یہ اس لیے کہ بے شک تیرا رب کبھی بستیوں کو (ان کے) کسی ظلم کی وجہ سے ہلاک کرنے والا نہیں، جب کہ اس کے رہنے والے بے خبر ہوں۔ En
(اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو
En
یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کو کفر کے سبب ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے بے خبر ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

131۔ یہ شہادت اس لیے ہو گی کہ آپ کے پروردگار کا یہ دستور نہیں کہ وہ بستیوں کو ظلم سے تباہ کر ڈالے جبکہ وہ حقیقت حال [139] سے ناواقف ہوں
[139] اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ لوگوں کو ان کے گناہوں کے انجام سے خبردار کیے بغیر انہیں اس دنیا میں تباہ کر ڈالے یا آخرت میں عذاب دے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بے شمار انبیاء لوگوں کی ہدایت اور انہیں ڈرانے کے لیے بھیجے اور قرآن میں ایک جگہ فرمایا: ﴿وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو۔ اور یہ ڈرانے والے جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے ہوتے تھے۔ پھر جس جس نے ان انبیاء کی دعوت پر لبیک کہا اور اعمال صالحہ بجا لایا۔ تو ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجات عطا ہوں گے۔