ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الانعام (6) — آیت 105

وَ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ وَ لِیَقُوۡلُوۡا دَرَسۡتَ وَ لِنُبَیِّنَہٗ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اور اسی طرح ہم آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ کہیں تو نے پڑھا ہے اور تاکہ ہم اسے ان لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو جانتے ہیں۔ En
اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کے لئے تشریح کردیں
En
اور ہم اس طور پر دﻻئل کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ یوں کہیں کہ آپ نے کسی سے پڑھ لیا ہے اور تاکہ ہم اس کو دانشمندوں کے لئے خوب ﻇاہر کردیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

105۔ اسی طرح ہم (اپنی) آیات کو مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ منکرین حق یہ نہ کہنے لگیں کہ ”تو نے تو کسی سے پڑھ لیا ہے“ اور اس لیے بھی کہ جو اہل علم [107] ہیں ان پر ان آیات کو واضح کر دیں
[107] قرآن میں ایسی آیات الٰہی بہت سے مقامات پر مذکور ہیں جو مختلف اوقات میں، مختلف ماحول میں اور مختلف انداز بیان سے نازل ہوتی رہیں۔ اگرچہ ان میں حقائق وہی ہیں جو پہلے بھی بیان ہو چکے ہیں۔ اس طرح نئے نئے پیرایہ میں دلائل بیان کرنے کے دو بڑے فائدے ہیں ایک یہ کہ آیات الٰہی میں غور و فکر کرنے والوں کو کسی وقت بھی ہدایت نصیب ہو سکتی ہے اور دوسرے یہ کہ متعصب اور معاند لوگوں کی کج فہمی کھل کر سامنے آ جائے جو یہ بات تو کسی صورت ماننے کو تیار نہیں کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے بلکہ اس کے علاوہ ہر غیر معقول صورت بتانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اور ایسی کڑیاں ملانے کی کوشش کرتے ہیں جن سے یہ ثابت کر سکیں کہ اس امی نے ایسا کلام یقیناً کسی عالم سے پڑھا ہے۔