ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحشر (59) — آیت 19

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اس نے انھیں ان کی جانیں بھلوا دیں، یہی لوگ نافرمان ہیں۔ En
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے انہیں ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے۔ یہ بدکردار لوگ ہیں
En
اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا، اور ایسے ہی لوگ نافرمان (فاسق) ہوتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو اللہ کو بھول [25] گئے تو اللہ نے انہیں ایسا بھلایا کہ وہ اپنے آپ کو بھی بھول گئے۔ یہی لوگ فاسق ہیں
[25] اللہ کو بھولنے کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہوتا ہے :۔
یعنی اللہ کو بھول جانے یا بھلائے رکھنے کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ کی معرفت سے ہی انسان کو اپنی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جو انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اس کائنات میں اللہ کی کیا حقیقت ہے اور اس کی اپنی کیا حیثیت ہے۔ وہ ہمیشہ غلط راستوں پر پڑ کر اپنی عاقبت برباد کر لیتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اس کائنات کا بھی اور خود اس کا بھی خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی سب چیزوں کا خالق، مالک اور پروردگار ہے اور انسان اس کی مخلوق، مملوک اور محتاج ہے۔ لہٰذا انسان کی ہر طرح کی عبادتوں اور نیاز مندیوں کا وہی مستحق ہے۔ وہی اس کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ باقی سب چیزیں بھی اسی طرح اللہ کی مخلوق، مملوک اور محتاج ہیں۔ اس لحاظ سے وہ انسان کے برابر ہوئیں۔ لیکن چونکہ وہ اشرف المخلوقات پیدا کیا گیا ہے اس لحاظ سے وہ باقی تمام مخلوق سے برتر ہوا۔ اب اگر ایک برتر مخلوق اپنے جیسی یا اپنے سے بھی کم تر مخلوق کی عبادت کرے یا اسکی حاکمیت کو تسلیم کرے یا اس کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے تو گویا اس نے انسانیت کے مرتبہ کی تذلیل اور توہین کی۔ یہی خالق و مخلوق کے درمیان باہمی رشتہ ہے۔ اس کو ملحوظ رکھے گا تو کبھی اللہ کا نافرمان نہیں ہو گا۔ اور اس رشتہ کو فراموش کر دے گا تو اس کی زندگی غلط راستوں پر پڑ کر فسق و فجور میں گزرے گی۔ اور وہ اپنے اخروی انجام سے بھی بے خبر اور غافل ہی رہے گا۔ لہٰذا صحیح راستے پر ثابت قدم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ہر وقت اپنا پروردگار یاد رہے اس سے غافل ہوتے ہی وہ اپنے آپ اور اپنے انجام کو بھول کر فسق و فجور میں مبتلا ہو جائے گا۔