شیطان کے حال کی طرح، جب اس نے انسان سے کہا کفر کر، پھر جب وہ کفر کر چکا تو اس نے کہا بلاشبہ میں تجھ سے لاتعلق ہوں، بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
En
منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں۔ مجھ کو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے
16۔ ان (منافقوں) کی مثال شیطان جیسی ہے کہ وہ انسان [22] سے کہتا ہے کہ کفر کر۔ پھر جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔
[22] شیطان کا طریقہ واردات :۔
شیطان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ انسان کو کئی طرح کے سبز باغ دکھا کر اسے اپنے دام تزویر میں پھنسا لیتا ہے۔ پھر جب انسان شیطانی جال میں پھنس کر اس کا آلہ کار اور ایجنٹ بن جاتا ہے تو شیطان نیا شکار تلاش کرنے لگتا ہے۔ اور پہلے کی طرف سے مطمئن اور بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ شیطان قیامت کے دن اپنے پیروکاروں کے سامنے ایسی ہی تقریر کر کے خود صاف طور پر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرے گا۔ اور اس کی عملی شکل میدان بدر میں پیش آئی۔ جب شیطان میدان بدر میں بنو کنانہ کے رئیس سراقہ بن مالک کی شکل دھار کر نمودار ہوا اور کافروں کو اکسانے اور فتح کی یقین دہانی کرانے لگا۔ پھر جب اس نے اس میدان میں فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لیے اترتے دیکھا تو چپکے سے وہاں سے کھسکنے لگا۔ اور اس کی تفصیل سورۃ انفال کی آیت نمبر 48 کے تحت گزر چکی ہے۔
جنگ بدر میں شیطان کی آمد اور فرار :۔
اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافقوں نے بھی یہود بنو نضیر سے شیطان کا سا ہاتھ کھیلا۔ انہیں جھوٹے وعدے اور امداد کی جھوٹی تسلیاں دیتے رہے۔ پھر جب بنو نضیر نے منافقوں کے ان وعدوں اور انگیخت پر سرکشی اختیار کی اور ان کا محاصرہ ہو گیا تو منافق بڑے اطمینان سے اپنے وعدوں سے دامن جھاڑ کر ان کا تماشہ دیکھتے رہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔